جبری گمشدگی محض ایک انسانی المیہ نہیں، یہ قابض ریاست کا سب سے مکروہ ہتھیار ہے۔ مجھے بھی اس جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے میرے گھر اور اپنے لوگوں سے چھین لیا گیا، صرف اس لیے کہ میں نے سوال اٹھانے کی جرات کی تھی۔ اس دن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ ریاست کس طرح اپنے شہریوں کو غلام بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔ یہ کوئی حکومت نہیں، یہ ایک قابض قوت ہے جو طاقت اور ہتھیار کے بل پر ہمارے سروں پر مسلط کی گئی ہے۔
بلوچستان میں روزانہ نوجوان، طالب علم، استاد اور عام شہری جبری طور پر لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک منصوبہ بند پالیسی ہے تاکہ عوام کی زبانیں بند کی جا سکیں۔ مگر کیا قابض ریاست سمجھتی ہے کہ وہ خوف کے ذریعے ہماری سوچ، ہماری جدوجہد اور ہمارے حوصلے کو ختم کر سکتی ہے؟ نہیں! ظلم کے اندھیرے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ایک دن سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
میں نے اپنی گمشدگی کے دنوں میں وہ اذیت دیکھی جو قابض ریاست اپنے شہریوں پر ڈھاتی ہے۔ مگر میں نے یہ بھی جانا کہ جبر کبھی ابدی نہیں رہتا۔ جتنا ظلم بڑھتا ہے، اتنی ہی مزاحمت مضبوط ہوتی ہے۔ ہر لاپتہ شخص ایک شعلہ ہے، ہر ماں کی آنکھ کا آنسو ایک عہد ہے، اور ہر متاثرہ خاندان ایک اعلان ہے کہ ہم سر نہیں جھکائیں گے۔
یہ قابض ریاست سمجھتی ہے کہ لوگوں کو اٹھا کر خوف کی فضا قائم کر دے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جبر ہی ہمیں بیدار کر رہا ہے، یہ ظلم ہی ہماری صفوں کو مزید متحد کر رہا ہے۔ ہماری مزاحمت اب خاموشی کی نہیں بلکہ کھلی بغاوت کی صورت اختیار کر رہی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ آزادی کبھی خیرات میں نہیں ملتی۔ آزادی ہمیشہ جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ قابض ریاست کے جبر کو توڑنے کا ایک ہی راستہ ہے: مسلسل مزاحمت، اجتماعی اتحاد اور اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جانا۔
آخر میں، میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہی کہوں گا کہ قابض ریاست نے ہمیں جتنا دبانے کی کوشش کی ہے، ہم اتنے ہی بلند ہوئے ہیں۔ ہر جبری گمشدگی ایک نیا نعرہ ہے، ہر لاپتہ نوجوان ایک نئی تحریک ہے۔ یہ جنگ ضرور طویل ہے، مگر فتح اسی کی ہوگی جو سچ اور حق کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ قابض اور جابر کے خلاف اور مظلوم کے حق میں فیصلہ دیتی ہے۔















