کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایس او آزادتربت زون کا جنرل باڈی اجلاس زیرصدارت زونل نائب صدرمنعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص مرکزی کمیٹی کے رکن نودان بلوچ تھے۔عظیم بلوچ شہدا ءکی ےاد میں دو منٹ کی خاموشی کے ساتھ اجلاس کاباقاعدہ آغاز کیاگیا۔ اجلاس میںمرکزی سرکولر،سابقہ کارکردگی رپورٹ، تنظیمی امور، سیاسی صورتحال،تنقید ی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے رہنماﺅںنے کہا کہ پوری دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کا رشتہ ایک مقبوضہ اور قبضہ گیرکے سوا کچھ بھی نہیں ،بلوچ قوم ایک طویل عرصے سے پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ مگر اس حقیقت سے واقفیت کے باوجود چین جیسے عالمی طاقت کا پاکستان کی سرپرستی میں مقبوضہ بلوچستان میں سرمایہ کاری میں شریک ہوناچین کو بھی بطور ایک فریق ملوث کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور اس قسم کے دوسرے تمام منصوبوں کا مقصد محض بلوچستان میں موجود قیمتی وسائل کا استحصال جاری رکھنے کے منصوبے ہیں ۔ رہنماﺅں نے کہا کہ آج اگر عالمی سیاسی منظرنامے کا اگر جائزہ لیا جائے تو خطے میں مذہبی شدت پسندوں کے وجود کو برقرار رکھنے اور ان کے پھیلاوے کے لئے پاکستان کے کردار کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی طاقتوں و دیگر اداروں نے اس جانب توجہ نہیں دی تو پاکستان اپنے زیر پرورش مذہبی شدت پسندوں کے ذریعے خطے کے ممالک میں قتل عام کرنے و عدم استحکام پھیلانے کا سبب بنے گی۔ بی ایس او آزاد کے رہنماﺅں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوںکی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بلوچستان میں ان کی دلچسپیوں سے باخبر ہونے کے لئے اپنی سیاسی تربےت و مطالعے پر بھرپور توجہ دیں۔کیوں کہ بے خبر کارکنوں و نوجوانوں کو کوئی بھی آسانی سے گمراہ کر کے اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔اجلاس میں تمام ایجنڈوں پر بحث مباحثہ کے بعد سابقہ کابینہ تحلیل کرکے زونل ذمہ داریاں نئی کابینہ کو سونپی گئی ۔


