آج اسلام آباد کی گلیوں میں بلوچ ماہیں بہنیں پورے دو مہینوں سے بھٹک رہی ہیں. اُن مظلوموں کے بہت ہی واضح مطالبات ہیں پہلا بی وائی سی قیادت پر جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں دوسرا بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کر کے لوگوں کو پاکستان کے ہی قوانین کے تحت دفاع کے حق کے ساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جو لوگ بیگناہ جبری گمشدہ کئے گئے ہیں اُن کا خودساختہ مقابلوں میں قتل کر کے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے. یہ وہ مطالبات ہیں جنہیں تمام پاکستانی سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتے درست قرار دے کر ریاست کی ایسی پالیسیوں کی شدید مخالفت کرتے ہیں مگر حکومت میں آکر سب کے تیور بدل جاتے ہیں.اور آج وہ انکی بیگانگی اور موقع پرستانہ شکل کو اچھی طرح دیکھ رہی ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچ قوم کا ایک طبقہ اب کسی حد تک یہ سمجھ گئی ہے کہ تمام جماعتیں خواہ وہ صوبائی سیاست کرتی ہیں کہ مرکزی، قوم پرستی کا دعویٰ کرتی ہیں کہ مذہبی سارے بلا تفریق ان مظلوم لواحقین کی لاچاریوں کو سیڑھی بنا کر اقتدار تک پہنچنے کی تلاش میں رہے ہیں اور انھیں بارہا ان سیاستدانوں نے ریاست پر دباؤ بڑھانے کے لئے آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے مگر بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ اب بھی ان سیاستدانوں اور خاص کر بلوچ سیاستدانوں کے درمیان لکیر کھینچ کر اچھے اور بُرے پارلیمنٹرینز کی غلط فہمی کا شکار ہیں یہی ہماری قومی شعور کا وہ بھیانک اور تاریک پہلو ہے جو پوری قومی تحریک کے سامنے مشکل سے عبور ہونے والی ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

یہ لوگ چونکہ ہم میں سے ہیں اور ریاست کے مراعات یافتہ ہیں اس لئے جونہی آپ انکی چالاکیوں کی درست نشاندہی کرتے ہیں تو انکے لیڈر پیچھے چھپ کر اپنے چیلوں کو نواز کر اُنکے زریعے آپ پر تمبوڑیوں کی طرح حملہ آور ہو کر ارد گرد بدتمیزی اور کج بحثی کا ایسی غوغا برپا کرتے ہیں کہ اصل موضوع ہی درمیان سے گم ہو جاتا ہے. لیکن ہمیں انکی ایسی ہٹ دھرمیوں اور بدتمیزیوں کے خلاف ڈٹنا ہو گا نہیں تو جس طرح پہلے کی چار جنگیں بغیر نتیجہ کے ختم ہوئی ہیں یہ بھی ایسے ہی کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل کہیں الجھ کر مایوسی کا سبب بن سکتی ہے. یہ موقع پرستوں کا وہ ڈھیٹ ٹولہ ہے جو اگر بلوچستان آزاد ریاست بن گیا تو یہ پہلے صفحے پر دکھائی دیں گے اور اُن اصلی جہدکاروں کو ایسے پیچھے دھکیلیں گے جیسے وطن انہی لوگوں کی وجہ سے آزاد ہوئی ہے اگر خدانخواستہ نتیجہ برعکس نکلا تو یہ جہاں اب کھڑے ہیں یہیں کھڑے رہ کر اُن لوگوں کا مذاق اُڑائیں جو اب ہر طرح کی مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔

اس مقام پر جب بلوچ قوم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ایسے میں وقت کا تقاضہ ہے کہ تکرار سے انکی نشاندہی کی جائے کیونکہ یہ طبقہ ریاست کیساتھ مل کر کسی بھی میدان میں بلوچ کو منظم دیکھنا نہیں چاہتی بجز خفیہ اداروں سے معاہدے کے مطابق سرگرمیوں کے اسکے علاوہ وہ بلوچ قوم کی ہر کوشش کو پاکستان سے آزادی کی جنگ کے تناظر میں دیکھتے ہیں . لہٰذا انھیں بلوچ قوم کی ہر بات غیر قانونی اور بُری لگتی ہے جس سے وہ اسے اجتماعی سزا کا حقدار ٹھہرا کر بے وجہ ذلیل کرتے ہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن اسکی زندہ مثال ہے گو کہ بی وائی سی کے مطالبات میں پاکستان کے آئین و قانون سے کوئی انحرافی نکتہ شامل نہیں ہے مگر اسکے باوجود خوفزدہ ریاست اور اسکے گماشتے اُنکے ساتھ سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں جس نے ہر لحاظ سے قابل حل مسلے کو ایسے پیچیدہ بنایا ہے کہ اب اسکے حل کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے. مگر اس میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے ان نام نہاد بلوچ و پشتون قوم پرستوں کی ریاست کے ساتھ گٹھ جوڑ کو ایک طبقہ دیکھنے بالکل بھی آمادہ نہیں. وہ سریحاً یہ ماننے تیار نہیں کہ یہ سب ایک ہی ٹیم کے کھلاڑی ہیں کوئی گول پہ کھڑا کوئی ڈیفینس میں کوئی فارورڈ میں کوئی ونگ سنبھالے ہوئے ہے اور کوئی متبادل کے طور پر باہر بیٹھا انتظار کر رہا ہے۔

انکی اور بلوچ قوم کی خواہش میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عام بلوچ قوم کو متحد دیکھنا چاہتی ہے جبکہ ان پارلیمنٹرینز نے ریاست کی ایماء پر انھیں تقسيم در تقسیم کر کے اُنکے بل بوتے پر سیاسی دکانیں سجا کر قومی وحدت کو ریزہ ریزہ کیا ہے بلوچ قوم وسائل کے لوٹ مار کے خلاف ہے جبکہ ان جماعتوں کے سربراہ بیرونی بڑی کمپنیوں کے بعد بلوچستان کے معدنیات کے سب سے بڑے لوٹنے والے ہیں اِن میں اور بیرونی کمپنیوں میں یہ فرق ہے وہ بہت بڑے لیول پر لوٹتے ہیں اور انکا لیول اُنکی نسبت کم ہے اس بابت بابا مری نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ “یہ لوگ کیسے ساحل و وسائل کے دفاع کی بات کرتے ہیں جو خود بلوچ وسائل کی لوٹ میں بڑے پیمانے پر ملوث ہیں”. کہتے ہیں ایک دفعہ پنجگور میں ایک بلوچ” لیڈر “سے کسی نے سوال کیا ہے کہ آپ سائل و وساتل کے دفاع کی بات کرتے ہیں مگر پورے بلوچستان میں سب سے زیادہ قیمتی معدنیات آپ ہی بیچتے ہیں اور آپ کے سب سے زیادہ لیز ہیں تو آپ نے کہا ہے کہ “آپ ہر سال اپنا کھجور بیچتے ہیں میں بھی ایسے اپنی زمین سے نکلتا ہوا پتھر بیچتا ہوں. پنجگوری واجہ نے جواباً کہا ہے میرے کھجور کا درخت ہر سال نیا فصل دیتا ہے لیکن جو پتھر آپ نکال کر بیچ رہے ہیں وہ تو دوبارہ نہیں اُگنے والا.”

بلوچ قوم بلوچوں کے درمیان انگریزی فتنہ پردازی کے فرضی لکیروں کو نہیں مانتی ہے جس نے بلوچوں کو تین ملکوں اور پاکستان کے اندر مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے اور قوم بلوچوں کے آپس میں مل ملاپ کے کسی بھی تدبیر کو مسترد کر کے یہ ترغيب دیتی ہے کہ سب بلوچ آپس میں مل کر اپنے وجود و شناخت کیلئے مشترکہ بقا کی جنگ لڑیں. جبکہ بلوچ پارلیمنٹرینز ان فرضی لکیروں کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر قسطوں میں صفحہ ہستی سے مٹنے سمجھوتہ کر چکے ہیں.بلوچ کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پاکستانی پارلیمان ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی جبکہ یہ پارلیمنٹرینز بھی بار بار کہتے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ ہمارے مسائل کا حل نہیں لیکن ہر انتخاب کے نام پر ریاستی ڈرامے بازی میں حصہ لینے دنیا جہاں کی منتیں سماجتیں پھڈے بازیاں کرتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے اسمبلیوں تک پہنچ جائیں. کبھی جوش میں آ کر یہاں تک کہتے ہیں کہ یہاں پارلیمانی سیاست میں دو آپشن رہ گئے ہیں یا آدمی پہاڑوں پر چڑھکر باغی بن جائے یا آئی ایس آئی کا پیادہ بنے لیکن خود یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتے کہ وہ خود کدھر ہیں ؟ اگر پہاڑوں پر نہیں ہو (جو کہ بالکل نہیں ہو) اور آئی ایس آئی کے دلال ہونے کا بھی اعتراف نہیں کرتے ہو تو آپ کون ہو؟ کہاں ہو؟ جسکی بقول آپ کے تیسرا کوئی آپشن ہی نہیں۔

اسی دوغلی پالیسی نے انھیں بلوچ قوم سے بیگانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کیلئے جگہ پیدا کی ہے جسے ریاست اپنا دشمن اور یہ اُسے اپنا سخت تریں حریف سمجھتے ہیں اس لئے ریاست اور یہ نام نہاد قوم پرست دونوں یکساں طور پر آزادی پسندوں کے ساتھ ساتھ اس نابغہ روزگار تنظیم کو بھی میدان سے خارج دیکھنا چاہتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن میں شدت، گمشدگیوں، ماورائے عدالت جعلی انکاونٹر، سی ٹی ڈی کے بے پناہ اختیارات، بلاخوف و خطر لوگوں کے چادر چار دیواری کی پائمالیاں، ملڑی کورٹس میں سویلینز کا ٹرائیل، اسپیڈی کورٹ لگا کر اُن کے اُوپر فوجی افسروں کی تعیناتی، سوشل میڈیا پر قدغن، آزادی اظہار پر پابندیاں، لوگوں کی باتیں ٹیپ کرنا وغیرہ وغیرہ سب کے پیچھے ایک مقصد ہے نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی. وہی نیشنل ایکشن پلان جو دوہزار چودہ کو پشاور میں بچوں کے اسکول پر حملے کے بعد بنائی گئی تھی جو بعد میں پھیل کر ایکسویں و چھبیسویں ترامیم وغیرہ کے تبدیلیوں کیساتھ مزید ظالمانہ شکل اختیار کرتی جا رہی ہے. آج ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی قیادت اور منظور پشتین اور پی ٹی ایم قیادت زیر عتاب ہیں اُس دستاویز پر محترم سردار اختر مینگل ،جہانزیب جمالدینی اور آغا حسن صاحب کے دستخط ہیں جو اُنکے پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کا پہلا نکتہ ہے۔

“The issue of missing persons should be resolved experditiously with firm commitment and future occurrences should be avoided. National Action Plan should be implemented in its letter and spirit.”

ترجمہ “لاپتہ افراد کے مسئلے کو پختہ عزم کے ساتھ حل کیا جانا چاہئے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے اجتناب کرنا چاہئے۔ نیشنل ایکشن پلان کو اس کے اہداف اور روح کے مطابق نافذالعمل کیا جانا چاہیے۔”

ہم سب اس کے گواہ ہیں لاپتہ افراد مسلہ بارے سردار صاحب اور اسکے دیگر ساتھیوں کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ اگر ایک لاپتہ بازیاب ہوتا ہے تو دس مزید غائب کئے جاتے ہیں جبکہ معاہدے کا دوسرا پیراگراف جو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ہے اُس پر پوری شدت سے اس تمام عرصے میں عمل ہوتا رہا ماورائے عدالت قتل ہوئے، جعلی مقابلوں میں شہادتیں ہوئیں، مسخ شدہ لاشیں ملتی رہیں، چادر و چاردیواریاں پائمال ہوتی رہیں دوسری طرف اس تمام عرصے میں یہ جماعت اتحادی کے طور پر فنڈز لیتی رہی تمام سرکاری مراعات سے فیضیاب ہوتی رہی مگر نہ نواب بگٹی کے تابوت سے تالے ہٹا سکی نہ زاہد کرد، ذاکر مجید، ڈاکٹر دین محمد بلوچ اور اصغر بنگلزئی جیسے ہزاروں جبری گمشدگاں کے فیملیز کو یہ تک بتا سکی کہ وہ اپنے پیاروں کا انتظار کریں یا۔

حرف آخر : قوموں کو غلام رکھنے کیلئے کالونیل طاقتیں ہمیشہ مقامی دلالوں کی مدد لیتی ہیں جو معمولی مراعات کے عوض اپنے ہی قوم کے دشمن کی طرف سے مورچہ زن ہوتے ہیں. جنوبی افریقہ کو غلام رکھنے میں ستر فیصد کالے گوروں کے ہراول دستہ تھے. مصر پر برطانیہ نے جب اَسی ہزار سپاہیوں سے حملہ کیا تو اُناسی ہزار عرب ایک ہزار گوروں کی طرف سے لڑ کر اپنی قوم کی شکست کو یقینی بنایا ہندوستان میں بھی برطانیہ تین سو کے قریب لوگوں کے ساتھ آیا باقی سب ہندوستانیوں کو کرائے پر رکھکر پورے براعظم پر دوسوسال تک حکمرانی کی راہ ہموار کی وغیرہ وغیرہ لہذا یہ سارے پارلیمنٹرینز بلاتفریق ریاست کے آلہ کار ہیں. یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن پر ہاتھ رکھ کر پاکستان کی سالمیت برقرار رکھنے قسم کھاتے ہیں جبکہ دوسری طرف بلوچ نوجوان اپنی جان اس سے آزاد ہونے کیلئے قربان کررہے ہیں. یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ دونوں سے مخلص رہیں انکی یہ باتیں کہ ہماری دعائیں سرمچاروں کے ساتھ ہیں جھوٹ کا پلندہ ہیں. اگر آپ کی ہمدردیاں یا دعائیں سرمچاروں کے ساتھ ہوتیں تو آپ کبھی کسی نیشنل ایکشن پلان کی حمایت نہیں کرتے جو سرمچاروں کو دہشتگرد کہتا.ان سرمچاروں کے بارے میں سردار عطاء اللہ مینگل نے 24 نومبر 2010 کو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “یہ لڑکےجو کچھ کرتے ہیں آئے دن چار پنجابی مارتے ہیں، یہ غلط ہے میں اس کے حق میں نہیں ہوں اس میں جن کا ہاتھ ہے حکومت پکڑ کر ان کا ٹرائیل کرے” کون نہیں جانتا ہے کہ کون” پنجابیوں” کون مارتا اور کیسے” پنجابیوں” کو مارتا ہے اس بارے میں بلوچ آزادی پسند عسکری تنظیمیں درجنوں بار وضاحتیں دے چکی ہیں لیکن اس کے باوجود سردار اُنکا موقف رکھنے کی زحمت کئے بغیر براہ راست اُن کے ٹرائیل کا مطالبہ کرتے ہیں. کیا دوست یا خیر خواہش اپنے کسی دوست کے بارے ایسا موقف رکھتا ہے؟ یقیناً نہیں! یہ جو کہتے ہیں کہ ہم بلوچ ننگ و ناموس کے محافظ ہیں یہ کسی قوم کیساتھ دنیا کا بیہودہ ترین مذاق ہے جب بی وائی سی قیادت کی گرفتاری ہوئی تو انھوں نے اسے اپنے ہچکولے کھاتی سیاسی کیریئر کو سنبھالنے جیک پاٹ سمجھا اور اس کے استعمال میں اتنے جذباتی ہو گئے کہ ننگ و ناموس کا نعرہ دیتے وقت یہ بھول گئے کہ ہم نے پہلے ایسے واقعات پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے اب سوال بنتا ہے کہ یہ اچانک غیرت کیسے جاگی اور اگر بعد میں ایسے واقعات رونما ہوئے اور ہم اُن پر اسٹینڈ نہ لے سکے تو ہماری سیاست بازی پکڑی جائے گی اور ہوا بھی ایسا. یہ لوگ نہ صرف ننگ و ناموس کو کفن سمیت جیل میں چھوڑ کر چلے گئے اس کے بعد پانچ بلوچ بچیاں نصرت بی بی، افسانہ بی بی، ماہ جبین بلوچ ، نمرہ کرد بلوچ ،صغریٰ بلوچ کے دلخراش واقعات رونما ہوئے تو یہ ننگ و ناموس کے محافظوں نے خاموشی کا چادر اوڑھ لیا کوئی دھرنا نہیں دیا حتیٰ کہ ماہ جبین بلوچ کی بہن نے نام لیکر سردار اختر مینگل سے سوال کیا کہ کیا میری بہن بلوچ ننگ و ناموس نہیں ہے کہ جس کیلئے دھرنا دیا جائے؟ مگر جواب ندارد۔

جس طرح انھوں نے سرکار کے ساتھ ملکر بی وائی سی قیادت کو لمبی جیل بھیجنے زمین ہموار کیا ٹھیک اسی طرح اب اس کے لئے نہ خود کوئٹہ، کراچی یا اسلام آباد میں دھرنے پر بیٹھ کر اُنکی رہائی کی کوششوں کو موثر بنانے قدم اُٹھاتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں بیٹھی بلوچ ماؤں بہنوں کی آواز کو موثر بنانے اخترمینگل سمیت کوئی بھی بلوچ پارلیمنٹرین نہ قوم پرست نہ مذہبی نہ سردار نہ نواب اُنکے ساتھ ملکر بیٹھنے دکھائی دیا جبکہ اپنے جلسوں میں اپنی تقریروں میں شدت لانے اُنکی مثالیں دیتے رہے اور بی وائی سی قیادت کی تصویریں بھی اپنے بینروں اور پلے کارڈز پر بڑی بے شرمی سے اپنے لیڈروں کے ساتھ لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ گویا ہمارا مقصد ایک ہے یا یہ کہ ہم اتحادی ہیں اور اُنہی کی محبت سے لوگ جلسوں میں آئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دو مہینے گزرنے کے بعد بھی اسلام آباد میں دھکہ کھاتی ان ماؤں بہنوں کو کسی لیڈر نے اپنا فلیٹ یا بنگلہ عارضی رہائش کیلئے دیا اور نہ خود جاکر اُن کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے. مختصراً جس دن بلوچ قوم کے ایک طبقے کو جو ابھی تک انکے بارے میں مخمصے میں ہے نے اس حقیقت کو درک کیا کہ یہ مختلف شکلوں میں ریاست کے سہولت کار بلوچ تحریک آزادی اور بلوچ قوم کیلئے حقیقی طور پر پُرامن جدوجہد کرنے والوں کے کہ جن کا بلوچ عسکری تنظیموں سے دور دور کا واسطہ نہیں کے بھی دوست نہیں تو بلوچ قوم کو کامیابیاں سمیٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔