چین کا ایڈوانس فائر وال، جو دنیا کا سب سے ایڈوانس فائر وال ہے، اور اس کا نام بھی “دی گریٹ فائر وال” رکھا گیا ہے۔ اتنا ایڈوانس ہے کہ اس فائر وال سے بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ چین کا نیٹ ورک استعمال کرنا بند کر دیں،۔ کوئی اور دوسرا راستہ ہی نہیں ہے۔ اور حال ہی میں یہ فائر وال اب پاکستان کو فراھم کردیا گیا ہے۔ ہہ، InterSecLab (ایک ریسرچ ادارہ) نے GFW (گریٹ فائر وال آف چائنا) کا 500 GB سورس کوڈ لیک کیا۔ اور اس ادارے کے مطابق چین اس فائر وال کے ذریعے کسی بھی یوزر کی عادات کے مطابق (جیسا کہ کسی خاص ویب سائٹ وزٹ کرنے سے لے کر کسی خاص لوکیشن پر جانے تک) اُس یوزر کے لیے ایک پروفائل بناتا ہے اور اس فائر وال سے VPN بھی محفوظ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی جگہ ہڑھتال ہو رہا ہے تو یہ فائر وال آٹومیٹکلی اس جگہ کے تمام ڈیوائسز جو انٹرنیٹ پر کنیکٹ ہیں، کی جاسوسی شروع کر کے سب کی پروفائل بنانا شروع کر دے گا۔ اگر کسی کی پروفائل بن گئی ہے تو اس پر مزید ڈیٹا ڈال دیا جائے گا۔ سادہ زبان میں ریاست کو آٹومیٹکلی پتا چل جائے گا کہ آپ اس جگہ پر موجود تھے۔ یہ فائر وال اتنا ایڈوانس ہے کہ مثال کے طور پر اگر آپ ایک ایسی جگہ پر ہوں اور وہاں ایک حملے ہو اور بعد میں آپ بلوچستان کے پہاڑوں میں پکنک پر چلے گئے تو ریاست کو پتا ہوگا کہ آپ اس جگہ پر موجود تھے اور اب آپ بلوچستان کے پہاڑوں میں نیٹ ورک پر ہیں۔ نہ صرف آپ کی لوکیشن بلکہ پہلے جو کچھ بھی آپ نے کیا تھا ریاست کو پتا ہوگا، جیسے آپ کا سیم کس کے نام پر ہے، آپ کا موبائل کس نمبر سے رجسٹرڈ ہے، آپ نے پہلے گوگل پر کیا سرچ کیا تھا۔۔ یہ سب کچھ ریاست کو معلوم ہو گا۔ اس کے علاوہ اگر آپ VPN استعمال کرتے ہیں تو آپ کی پروفائل پر پہلے “VPN-user” لکھ دیا جائے گا جس سے فائر وال کو یہ پتہ ہوگا کہ یہ یوزر VPN استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اس VPN کو کسی دوسرے آپریٹر پر فِکس کر دے تو اگر آپ اپنا سیم کارڈ بھی بدل دیں تو ریاست کو یہ پتہ ہوگا کہ آپ ہی وہ شخص ہیں جو کسی دوسرے سیم کارڈ سے دوسرے نیٹ ورک استعمال کر رہے ہیں۔ اس فائر وال کے ذریعے ریاست (man-in-the-middle) اٹیک کے ذریعے آپ کے پاس ورڈز، میسجز، ای میلز اور جو کچھ بھی انکرپٹ نہیں ہے، پڑھ سکتی ہے۔ انکرپشن کے بارے میں زیادہ خوش نہ ہوں۔۔ شاید ابھی ریاست نے واٹس اپ جیسے ایپس کی انکرپشن بھی توڑ دی ہو۔ اور اگر آپ نے پہلے کسی ویب سائٹ کو وزٹ کیا ہے تو ریاست کو براہِ راست پتا ہوگا کہ آپ نے کون سی ویب سائٹ کھولی، آپ نے کس ویب سائٹ میں لاگ ان کیا۔ مثلاً اگر آپ “ہمگام” جیسے ایک نیوز ویب سائٹ کے ایڈمن ہیں تو ریاست کو نہ صرف یہ پتا ہوگا کہ آپ اس کی ایڈمن ہیں بلکہ اس ویب سائٹ کا یوزرنیم اور پاس ورڈ بھی معلوم ہو جائے گا۔ اس فائر وال کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی خاص نقطے کی نگرانی کر سکتا ہے (نہ کسی شہر، نہ کسی صوبے، بلکہ ایک گلی تک کی نگرانی کرنے کی طاقت اس کے پاس ہے)۔ مثال کے طور پر آپ بلوچستان کے پہاڑوں میں پکنک پر ہیں اور کسی خاص جگہ پر نیٹ ورک پر جا کر اپنی دوست کو نمک منگانے کے لیے کال کرنے جا رہے ہوں تو اگر ریاست اس نقطے کی نگرانی کر رہی ہے تو ریاست کو یہ پتا ہوگا کہ آپ نے اپنی دوست سے نمک منگوایا۔ یہ ڈیٹا نہ صرف پنجاب بھیجا جائے گا بلکہ نزدیکی ISP میں بھی محفوظ کیا جائے گا۔ اس فائر وال کے کوڈز میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ فائر وال چینی موبائل کمپنیوں جیسے Redmi کی طرف سے حاصل کیا گیا ڈیٹا بھی دیکھ سکتا ہے۔ شاید چین ابھی پاکستان کو Redmi جیسے موبائلز کا ڈیٹا فراہم نہ کرے، لیکن اگر چین کو اپنی CPEC پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ضرورت پڑے تو ضرور یہ ڈیٹا پاکستان کو فراہم بھی کرے گا۔ تو سب سے پہلے آپ کو Redmi اور چینی موبائلز استعمال کرنا بند کرنا پڑے گا۔
اس فائر وال سے مکمل طور پر بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ پاکستان کا نیٹ ورک استعمال کرنا بند کر دیں۔ اگر ابھی آپ کے پاس اس کا حل نہیں ہے تو آپ کو یہ طریقے استعمال کرنے پڑیں گے:
1. چینی موبائل اور ڈیوائسز استعمال کرنا بند کریں۔
بہت سے ثبوت ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ چین نے چائینیز میڈ موبائل فونز کے ذریعے جاسوسی کر کے اپنی مخالفین کو گرفتار کیا ہے۔ ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ چین میں احتجاج کی ویڈیوز جو بیرونِ ملک بھیجی گئیں تو موبائل نے آٹومیٹکلی وہ ویڈیوز ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ تو چین اپنی مفادات کے لیے آپ کا ڈیٹا براہِ راست پاکستان کو فراہم کر سکتا ہے۔ ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ چینی موبائلز نے پروٹیسٹرز کے موبائلز سے فوٹوز، میسجز، ای میلز اور بہت سا ڈیٹا اکٹھا کیا اور بہت سے لوگ گرفتار یا لاپتہ ہوئے۔ چاہینیز میڈ نہ صرف موبائل بلکہ وائی فائی یا جو کچھ بھی انٹرنیٹ پر کنیکٹ ہوتا ہے، آپ اس کا استعمال بند کریں۔
2. دو موبائل استعمال کریں۔
آپ کو دو موبائل استعمال کرنے چاہئیں تاکہ اگر آپ کی پروفائل بنے تو ایک الگ رہے۔ ایک موبائل آپ اپنی ذاتی استعمال کے لیے اور دوسرا اپنی ظاہری استعمال کے لیے رکھیں۔ ذاتی موبائل پر ExpressVPN جیسے VPN انسٹال کریں اور 24 گھنٹے وہ VPN آن رکھیں، جتنا ہوسکے سیم کارڈ کا انٹرنیٹ استعمال مت کریں۔ اگر مجبوری ہو تو اپنے موبائل پر ExpressVPN آن کر کے کسی دوسرے شخص کے نام والے سیم کارڈ والے وائی فائی کا استعمال کریں تاکہ آپ کی موبائل کی کوئی پروفائل نہ بنے۔ اور کوئی بھی چینی یا پاکستانی ایپ انسٹال مت کریں؛ ویب سرفنگ جیسے Chrome اور دوسرے براؤزر اپنی ذاتی موبائل پر نہ کریں۔ اور اگر آپ کہیں حساس جگہ یا احتجاج پر جا رہے ہیں تو اپنا موبائل ساتھ مت لے جائیں؛ اگر لے بھی جا رہے ہیں تو اپنا زاھری لی جاہیں موبائل بند کر کے سیم کارڈ نکال دیں، پھر واپسی میں موبائل بند کر کے سیم کارڈ ڈال دیں۔ ایک غلطی آپ کی پروفائل میں غلط چیز ڈال کر آپ کو گرفتار کرا سکتی ہے۔
3. فائر وال آپ کی موبائل کی لوکیشن 24 گھنٹے نگرانی کر رہا ہے۔
آپ جہاں بھی جائیں ریاست کو پتا ہوگا کہ آپ وہاں ہیں۔ تو اگر وہاں کوئی بھی حملہ ہو تو ریاست کو پتا ہوگا کہ آپ وہاں تھے۔ ان دستاویزات پر عمل کر کے آپ 100 فیصد محفوظ نہیں ہیں، لیکن کچھ حد تک آپ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے فائر وال سے بچنے کا۔ اس فائر وال کو چین کی ایک کمپنی Geedge نے بنایا ہے اور اس کمپنی کے ہزاروں کارکن ہیں جو ہر روز اسے اپڈیٹ کر رہے ہیں۔ تو کل تک شاید ایسا کوئی آپشن اس میں ایڈ کیا جائے جو نہ کبھی مجھے پتا چلے نہ کبھی آپ کو۔ جتنا انٹرنیٹ آگے جا رہا ہے اتنا ہی خطرہ بڑھتا جا رہا ے اور ہمیں اتنا ئی پیچھے جانا پڑھیگا، ایسے ڈیوائسز استعمال کرنا چائیے کہ انکا انٹرنیٹ سے کوئی لینا دینا نہ ہو– سترک رئیں، محفوظ رہیں۔















