بلوچستان کی تاریخ میں نسل در نسل ایسے ہیروز پیدا ہوتے ہیں جن کے نام وقت کی سرحدوں سے بھی آگے زندہ رہتے ہیں انہی روشن چہروں میں سے ایک ہے شہید تادین (جرمنی) ایک 28 سالہ جوان جس کا دل پہاڑوں کی وسعت اور روح بارش کی نرمی جیسی تھی سنگت اس کو ہمیشہ ایک چیز سے پہچانتے تھے اس کی جاوداں مسکراہٹ حتیٰ کہ جب مورچوں پر گولیوں کی بارش ہوتی تھی اور پہاڑ دھماکوں سے لرزتے تھے تب بھی تادین اپنی مسکراہٹ اور محبت بھری باتوں سے خوف و ہراس کے ماحول کو زندگی اور امید میں بدل دیتا تھا وہ جانتا تھا کہ دکھ کو کیسے ہلکا کرنا ہے زخموں پر مرہم کیسے رکھنا ہے اور تاریکی میں روشنی کیسے جلانی ہے اسی لیے ساتھیوں نے اسے لقب دیا تھا مسکراہٹوں کا ڈاکٹر تادین نے کبھی میڈیکل یونیورسٹی میں قدم نہیں رکھا نہ کوئی ڈگری اس کے کمرے کی دیوار پر لٹکی تھی مگر اس کا تجربہ دھیان اور سب سے بڑھ کر انسانیت سے محبت نے اسے ایک حقیقی طبیب بنا دیا تھا جب کوئی ساتھی بیمار ہوتا یا میدانِ جنگ میں زخمی ہوتا، تادین سب سے پہلے اس کے پاس پہنچتا اس کے سخت ہاتھ مگر نرم دل ایسے زخموں پر پھرتے کہ گویا محبت کی مرہم لگ رہی ہو وہ صرف جسم کے زخم نہیں بھرتا تھا بلکہ اپنے الفاظ اپنی نظر اور اپنی مسکراہٹ سے روح کے زخم بھی شفا دیتا تھا سنگت کہا کرتے جب تادین ساتھ ہوتا کوئی زخم خوفناک نہیں لگتا وہ صرف دوا نہیں لاتا امید لاتا تھا اس کی ذاتی زندگی بھی قربانی کی مثال تھی اس کی ایک بیوی اور بچے تھے جو گھر میں اس کے منتظر رہتے تھے وہ چاہتا تو آرام دہ زندگی گزار سکتا تھا مگر اس کا ایمان تھا کہ بلوچ خاندانوں کی حقیقی امن اور سکون صرف آزادی بلوچستان میں ہے اسی لیے وہ بار بار گھر کو چھوڑ کر پہاڑوں اور مورچوں کا رخ کرتا اس کی جدوجہد 2016 سے شروع ہوئی اس کے بعد اس نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا آٹھ سال تک وہ بے شمار محاذوں پر موجود رہا بولان جہاں جنگ دن رات جاری رہتی تھی کاہان جہاں سخت حالات مردانگی کو آزماتے تھے سیاہ کوہ جہاں بارہا گولیوں کی گرج گونجی اور اس کی استقامت دیکھی گئی بمبور جہاں ہر پتھر اس کی مزاحمت کی گواہی دیتا ہے ان سب محاذوں پر تادین صرف ایک دلیر سرمچار نہیں تھا بلکہ ساتھیوں کے دلوں میں زندہ امید بھی تھا وہ جتنا ہتھیار سے لڑتا تھا اتنا ہی اپنی مسکراہٹ اور محبت سے حوصلے زندہ رکھتا تھا 12 ستمبر 2024 کو ہرنائی کے آسمان پر سکون ختم ہوگیا دشمن کے ڈرون اوپر اڑے اور موت کو پہاڑوں پر برسایا اس وقت تادین پانچ ساتھیوں کے ہمراہ مورچے میں موجود تھا ایک زوردار دھماکہ ہوا زمین لرز گئی اور آسمان خون سے رنگین ہو گیا وہیں اس کی دیرینہ دعا قبول ہوئی اور اس کی روح کو شہادت کی منزل نصیب ہوئی مگر شہادت تادین کے لیے اختتام نہیں بلکہ جاودانگی کی شروعات تھی اس کا خون ہرنائی کی مٹی کو سیراب کر گیا لیکن اس کی مسکراہٹ اور یاد آج بھی زندہ ہے آج بلوچستان اس کو یوں یاد کرتا ہے ایک ایسا مرد جس نے 2016 سے آخری سانس تک ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑا رہا ایک ایسا مرد جس نے بغیر ڈگری اور بغیر یونیورسٹی کے صرف محبت سے دلوں کا ڈاکٹر بن کر ساتھیوں کا سہارا دیا ایک ایسا مرد جس نے اپنی شہادت سے ثابت کیا کہ امید ایمان اور قربانی ایک قوم کے سب سے بڑے زخموں کا علاج ہیں شہادتِ تادین خود بلوچستان کے تاریخی زخموں پر ایک بڑا مرہم بن گئی وہ رخصت ہوا لیکن اس کی مسکراہٹ آج بھی یاران کے دلوں میں روشن ہے۔