گزشتہ ہفتے عالمی سیاست میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں جب فرانس، جاپان اور نیپال میں تین وزرائے اعظم نے استعفیٰ دے دیا ۔ یہ واقعات نہ صرف ان ممالک کی داخلی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن اور ممکنہ نئے عالمی آرڈر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ فرانس میں وزیرِ اعظم فرانسوا بایرو نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کے بعد استعفیٰ دیا ۔ اس تحریک کے پیچھے مہنگائی، امیگریشن پالیسیوں، اور حکومتی کارکردگی پر عوامی غصہ تھا۔ اس سے قبل، فرانس میں وزیرِ اعظم مشیل بارنیئر بھی عوامی احتجاجات کے دباؤ کے نتیجے میں ہٹ چکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ،فرانس کی سیاسی تبدیلیاں زیادہ تر عوامی احتجاجات اور پارلیمانی دباؤ کا نتیجہ ہیں، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے ہلچل کی ہیں ۔ دوسری جانب جاپان میں وزیرِ اعظم شیگرو اشیبا نے عوامی عدم اطمینان اور حکومتی کارکردگی پر سوالات کے باعث استعفیٰ دیا ۔ حکمران جماعت کے اراکین ایوانِ بالا کے انتخابات کے نتیجے میں نئی قیادت کے انتخاب کے خواہاں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ ،جاپان میں سیاسی بحران داخلی انتخابات اور عوامی رائے کا نتیجہ ہے، بیرونی مداخلت کے شواہد کم ہیں ۔ جاپان وہ ملک ہے جہاں ہر کوئی اس پر فخر کرتا ہے اور ہر نئے ابھرتے ترقی پذیر ممالک جاپان کی مثال کو مد نظر رکھ اپنے معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے پابند ہو رہا ہے ، لیکن معاشی تجزیہ کار کہہ رہے ہے چند نادیدہ قوتیں جاپان کو زبردستی قرضے دلوا کر اسے معاشی تباہی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے جو ایک مضبوط معاشی ترقی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر وہ اپنے سامراجی حربوں کو استعمال کرکے خطے کو ہر چیز کو اپنے قابو میں لینا چاہتے ہیں ۔ جہاں تک نیپال کی نیپال میں وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی کو کرپشن کے الزامات اور عوامی احتجاجات کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔ نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاجات نے حکومت کو گرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بحران مقامی عوام اور نوجوانوں کی سیاسی تحریکوں کا نتیجہ ہے، جس میں بیرونی طاقتوں کے اثرات محدود ہیں ۔ نیپال میں بر سر اقتدار حکمرانوں کے بچے باہری ممالک میں مکمل عیاشیاں کر رہے تھے اور اپنے ہر لگژری لائف اور عیاشیوں کے تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے تھے نیپالی غریب عوام نے جب ان کے عیاشی بھری لائف اسٹائل کو دیکھ تو انہوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیا ، اسی سلسلے میں نیپالی حکمرانوں نے اپنے کرپشن کو چھپانے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کر دیا تب ہی نیپالی نوجوان غصے میں آ کر پوری حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ، مجبور ہو کر حکومت نے سوشل میڈیا پر عائد پابندیاں تو ہٹا دی لیکن جنریشن زی مزید آگے بڑھے اور کرپشن کو لے کر حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔ اس عالمی ہلچل کے درمیان میں عالمی سطح پر کچھ دانشور اور مبصر یہ تجویز کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں مختلف ممالک میں اثر ڈالتی ہیں، مگر موجودہ استعفے زیادہ تر داخلی عوامی دباؤ، کرپشن، اور سیاسی مسائل کا نتیجہ ہیں۔ لیکن چند ایسے غیر جانبدار اور دور اندیش عالمی تجزیہ کار اور محقق کہہ رہے ہیں کہ نیوز ورلڈ آرڈر کی تیاریاں ہو رہی ہیں جہاں جہاں ضرورت پڑے حکمران وں کو گرایا جاتا ہے معیشتیں تباہ کر دی جاتی ہیں ، جنگ کی ضرورت پڑے ملکوں کو آپسی چپقلش میں الجھایا جاتا ہے بیرون سے لڑایا جاتا ہے ۔ ایک رپورٹ میں فنانشل ٹائمز کے مطابق ، عالمی تبدیلیاں خفیہ طاقت کے کنٹرول میں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ پیچیدہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لیکن عالمی سیاست کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ وہ عالمی میڈیا ادارے ہیں جو کہ نہ صرف خفیہ طاقتوں کے خفیہ ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ کمزوروں کے خلاف دیدہ دلیری سے پروپگینڈا کر رہے ہیں ۔ حرف آخر میں کہا جاتا ہے ااگر تیسری جنگ عظیم جیسا ماحول نہیں ہوگا لیکن ریاستوں کو پس پردہ اندرونی و بیرونی مسائل میں الجھا کر وہاں جنگ عظیم سے بدتر ماحول کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ اور اس نئے عالمی کھیل میں وہی کھلاڑی ڈٹ کر مقابلہ کرے گا جو اسے پہلے سے معلوم ہے کہ پھانسا کہاں سے پلٹ جاتا ہے ۔