بلوچستان کی قدیم اور باعزت سرزمین آج ہر دن خون سے رنگین ہوتا جارہا ہے ہمارے بھائی شہید کیے جا رہے ہیں آزادی پسند بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ویرانوں میں گرائے جا رہے ہیں ہماری عزت و ناموس کو پامال کیا جا رہا ہے، معصوم بلوچ بچے یتیم اور بے سہارا ہو رہے ہیں، اور ہمارے وسائل ایران اور پاکستان کے قابضین کے ہاتھوں لوٹے جا رہے ہیں یہی سرزمین جو بلوچ قوم کی عزت آزادی اور خوشحالی کا مرکز ہونا چاہیے تھا برسوں سے ظلم غربت اور امتیاز کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ مگر سب سے بڑا زخم صرف قابضوں کے ہاتھوں نہیں لگا، بلکہ ان غداروں کے ہاتھوں ہے جو قوم کے محافظ بننے کے بجائے دشمن کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ وہ سردار جو مٹی اور خونِ بلوچ کا دفاع کرنے کے بجائے حکومتوں کی دسترخوان پر بیٹھ گئے وہ ملا جو دین و ایمان کو آلہ بنا کر ظالموں کی خدمت میں لگ گئے اور وہ مخبر جو اپنے ہی بھائیوں کے خون کو بیچ کر قابضوں کے غلام بن گئے۔ یہ غداری چھوٹی بات نہیں ہے ہر وہ قطرہ خونِ شہید جو بلوچستان کی مٹی پر گرتا ہے آپ کی پیشانی پر داغ ہے ہر وہ یتیم بچہ جو ماں سے روٹی مانگ کر بھوکا سو جاتا ہے آپ کی غداری کا ثبوت ہے ہر وہ عورت جو جنگ اور قبضے کی وجہ سے بے گھر ہو جاتی ہے آپ کے ضمیر پر لعنت ہے یاد رکھو! قابضوں کے ساتھ کھڑا ہونا ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا وہ تاریخ جو خون اور قربانیوں سے لکھی جاتی ہے غداری کو کبھی معاف نہیں کرے گی کل جب بلوچستان آزاد ہوگا آپ کا نام خائن اور ظلم کے ساتھی کے طور پر درج ہوگا اس سرزمین کے لوگ آپ کی طرف انگلی اٹھا کر کہیں گے یہ وہ تھے جنہوں نے اپنی قوم سے غداری کی شاید آج تم طاقت اور دولت کے سہارے خود کو محفوظ سمجھتے ہو، مگر تاریخ اور عوام کا ضمیر تمہیں رسوا کرے گا نہ دنیا میں تمہارے لئے عزت باقی رہے گی نہ آخرت میں تمہارے لئے نجات ہوگی جو اپنی خون، ناموس دین اور سرزمین کو بیچ دے وہ دونوں جہانوں میں بے عزت اور بے حرمت ہوتا ہے لیکن بلوچ قوم کبھی سر نہیں جھکائے گی جیسے بلوچستان کے پہاڑ طوفان کے سامنے مضبوط کھڑے ہیں بلوچ کی ارادے بھی ٹوٹنے والے نہیں آزادی جلد یا بدیر واپس آئے گی اور اس دن عزت عوام کی ہوگی اور شرم و ننگ تمہارے حصے میں آئے گی بلوچستان آزاد ہوگا نہ خاموشی اور غداری سے بلکہ بلوچ قوم کی مزاحمت قربانی اور ایمان سے اور تم جو آج قابضوں کے ساتھ شریک ہو آنے والے کل میں تمہارا کوئی مقام نہ ہوگا سوائے سیاہ تاریخ کے اور آنے والی نسلوں کی نفرت بھری نظروں کے