آج کی دنیا ایک نئی صف بندی (Realignment) کے دہانے پر کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر دنیا پر حاوی رہا، لیکن اب چین نہ صرف ایشیا بلکہ افریقہ تک میں اپنی جڑیں گہری کر رہا ہے۔ “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” (BRI) کے تحت چین نے پورے ایشیا اور افریقہ میں انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور تجارتی راہداریوں کا جال بچھایا ہے۔ افریقہ میں چین کی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ ایشیا میں پاکستان کے سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت کو دوبارہ “امریکہ کا بہترین دوست” قرار دیا ہے۔ یہ بیان محض سفارتی نہیں بلکہ اس امر کا اعلان ہے کہ امریکہ، چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بھارت کو اپنے بلاک میں رکھنے کے لئے سنجیدہ ہے۔ ماضی قریب میں ٹرمپ نے بھارت پر لگائے گئے ٹیرف کو 25 سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا تھا، جس کے باعث بھارت نے خاموشی اختیار کر کے روس اور چین کی طرف جھکاؤ دکھایا۔ تاہم اب اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ بھارت پر ٹیرف کم کر سکتا ہے تاکہ اسے اپنی صف میں رکھ سکے۔

یہ عالمی طاقتوں کی چالیں صرف معاشی یا سفارتی نہیں، بلکہ علاقائی سیاست اور آزادی کی تحریکوں پر بھی براہ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں چین نے اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی، لیکن امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس قرارداد کو روک دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مغربی طاقتیں بلوچستان کو مستقبل میں ایک اہم اسٹریٹیجک خطے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

بلوچستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کے اعتبار سے دنیا کا سب سے اہم خطہ ہے۔ گوادر بندرگاہ نہ صرف مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے ملاپ پر واقع ہے بلکہ یہ عالمی توانائی کے راستوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین چاہتا ہے بلوچستان پر اس کا اثر قائم رہے، جبکہ مغربی طاقتیں اس خطے کو ایک آزاد جغرافیہ کے طور پر دیکھ کر اپنی توانائی اور تجارتی ضروریات کے لئے کھلا راستہ چاہتی ہیں۔

یہ وقت بلوچ آزادی پسند رہنماؤں کے لئے فیصلہ کن ہے۔ عالمی طاقتوں کی صف بندی نے ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے۔ اگر بلوچ تحریکیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ایک متحدہ پروگرام کے تحت “آزاد بلوچستان” کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھیں، تو عالمی حمایت حاصل کرنا ممکن ہے۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں سرد جنگ کے دوران امریکہ اور مغربی بلاک نے مزاحمتی تحریکوں کو مدد فراہم کی اور آخرکار سوویت یونین کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں یوکرین کو بھی مغربی بلاک کی حمایت ملی ہے تاکہ روس کو محدود کیا جا سکے۔

بلوچستان کے لئے یہی لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر آج عالمی تبدیلیوں کا صحیح فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ موقع دوبارہ میسر نہ آئے گا۔ بلوچ رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ ذاتی اختلافات بالائے طاق رکھ کر “متحدہ بلوچستان” کے وژن کو عملی شکل دیں اور سفارتی محاذ پر تیزی سے پیش قدمی کریں۔

چین اور امریکہ کی یہ کشمکش محض عالمی طاقتوں کی جنگ نہیں بلکہ بلوچستان جیسے خطے کے مستقبل کا تعین بھی کرے گی۔ بلوچ قیادت کو چاہیے کہ اس موقع کو عالمی اسٹریٹیجک تبدیلی کے تناظر میں ایک تاریخی موقع سمجھے اور اپنے قومی خواب کو حقیقت بنانے کے لئے سفارتی، سیاسی اور فکری سطح پر متحد ہو کر آگے بڑھے۔