وحید کی عمر صرف 20 سال تھی اور وہ چمالنگ کا رہنے والا تھا وہ سرزمین جس کی مٹی میں درد اور مزاحمت کی بے شمار داستانیں دفن ہیں اس نے اپنا بچپن جلاوطنی میں گزارا وہ سال جو کسی بھی انسان کے لیے کمر توڑ ثابت ہو سکتے ہیں بیس سال سے زیادہ وقت تک وہ اور اس کا خاندان اپنے گھر اپنی زمین اور اپنے دیس سے بے دخل رہے جلاوطنی کی یہ زندگی وحید کے دل پر صرف ایک زخم نہیں تھی بلکہ یہی زخم اس کی روح کو صیقل دے گیا اور اس کے ارادے کو فولاد کی طرح سخت کر دیا اس کی آنکھوں میں ہمیشہ جدائی کی اداسی جھلکتی تھی لیکن اس غم کے پیچھے ایک روشن اور مضبوط عزم چھپا ہوا تھا جب میں نے پہاڑوں کا رخ کیا یہ میری موجودگی کا پہلا مہینہ تھا سب کچھ میرے لیے نیا اور اجنبی تھا انہی دنوں وحید بھی چند ماہ پہلے سنگتوں کے درمیان شامل ہوا تھا لیکن ابتدا ہی سے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ دلیر ہے اور نڈر اس کا رویہ کسی نووارد سے بالکل مختلف تھا ایسا لگتا تھا جیسے اس نے برسوں میدان میں تجربہ حاصل کیا ہو وہ سخت پہاڑی حالات کے ساتھ فوراً ڈھل گیا تھا کم سے کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا اور جہاں بھی خطرہ آتا بلا جھجک سب سے آگے بڑھتا ایک دن جو کبھی نہیں بھول سکتا وہ تھا جب دشمن کے ہیلی کاپٹر ہمارے سروں کے اوپر پرواز کر رہے تھے ان کی دہلا دینے والی آواز نے پہاڑوں کو ہلا دیا تھا لیکن وحید بغیر رکے شہید آصف کے ساتھ آگے بڑھا تاکہ کوئی محفوظ راستہ تلاش کرے اور ہمیں خطرے سے نکالے حالانکہ وہ نیا تھا، مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے برسوں کا تجربہ رکھتا ہو میں نے اسی دن جان لیا کہ وحید کے لیے بہادری ایک انتخاب نہیں تھی بلکہ اس کی فطرت کا حصہ تھی میرے پاس اس کے ساتھ کئی یادیں ہیں لیکن دو لمحے ہمیشہ زندہ ہیں ایک رات بارش بے انتہا ہو رہی تھی زمین کیچڑ سے بھر گئی تھی اور کوئی پناہ گاہ نہیں تھی میں نے سوچا کہ اپنے ہاتھوں سے ایک کٹیا بناؤں تاکہ ساتھی بھیگ نہ جائیں وحید اور شہید آصف بغیر کسی کہے میرے ساتھ ہو لیے بارش میں اندھیرے میں ہم نے اردگرد کے پتھروں اور لکڑیوں سے دو مضبوط کٹیاں بنائیں وحید کے ہاتھ زخمی ہو گئے کپڑے بھیگ کر بھاری ہو گئے لیکن اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہ ہوئی جب کٹیا مکمل ہوئی تو وہ ہمارے لیے ایک چھوٹے قلعے کی مانند تھی اور سب نے سکون کا سانس لیا اس رات میں نے سمجھا کہ دوسروں کی مدد کرنا وحید کے لیے فرض نہیں بلکہ عشق تھا دوسری یاد ایک اور بارش کی ہے جو پہلی بارش سے بھی زیادہ تیز تھی اس دن میرا ارادہ تھا کہ کچھ دیچے کے ساتھیوں کے ساتھ دوسرے مقام پر جاؤں بارش مسلسل برس رہی تھی اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس راستے کو کیسے طے کروں اور ساتھیوں کو بیماری سے کیسے بچاؤں تب وحید آگے آیا اس کے پاس اپنی حفاظت کے لیے صرف ایک واٹر پروف خیمہ تھا اس نے بغیر کسی تردد کے وہ مجھے دیا اور کہا سنگت یہ تم رکھو تمہیں اور ان ساتھیوں کو سلامت رہنا چاہیے میں اپنے لیے کوئی اور راستہ نکال لوں گا یہ سادہ جملہ مختصر تھا لیکن اس کی گہرائی ایسی تھی کہ آج تک یاد ہے اسی دن میں نے سمجھا کہ ایثار وحید کے وجود میں رچا بسا ہے وہ ہمیشہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتا تھا وحید صرف ایک سرمچار نہیں تھا بلکہ ایک ایسا انسان تھا جو محبت سخاوت اور ایسا جذبہ رکھتا تھا جو سب کو اپنے گرد جمع کرتا تھا سب جانتے تھے کہ وہ شہید فدائی درویش کا بھتیجا تھا وہی خون وہی غیرت اور وہی آزادی کی روح اس کی رگوں میں دوڑتی تھی تقدیر نے بھی اسے اسی راستے پر پہنچا دیا 12 ستمبر 2024 کو ہرنائی کے پہاڑوں میں دشمن کے ڈرونز نے بزدلانہ حملہ کیا اور وحید پانچ اور سنگتوں کے ساتھ شہید ہوگیا لیکن دشمن صرف اس کے جسم کو لے سکا اس کا نام اس کی یاد اور اس کا راستہ آج بھی زندہ ہے جب بھی میں اسے یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے صرف ایک 20 سالہ جوان کا تصور نہیں آتا بلکہ ایک عظیم روح ابھرتی ہے جس نے اپنی مختصر عمر میں ہمیں بہادری ایثار اور بھائی چارے کا سبق دیا وحید نے اپنا بچپن جلاوطنی کے زخموں کے ساتھ گزارا اپنی جوانی یاران کی خدمت میں لگائی اور آخرکار اپنے خون سے بلوچستان کی تاریخ کو مزید سرخ کر دیا وہ چلا گیا لیکن اس کی کہانی آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہے ایک ایسے جوان کی کہانی جو سخت ترین دنوں میں بھی اپنی مسکراہٹ اور ایثار سے سب کو امید دیتا رہا