زاہد جان بلوچستان کے دلیر فرزندوں میں سے ایک ۲۲ سالہ جوان تھا ایک ایسا جوان جس کی رگوں میں آزادی کی روح دوڑ رہی تھی اور کوئی بھی رکاوٹ یا سرحد اسے اپنی سرزمین کی محبت سے روک نہیں سکتا تھا وہ بے شمار محاذوں پر شریک رہا تھا تپتی ہوئی پہاڑوں والے بولان سے لے کر خاموش دشت واشک تک پنجگور کے ریگزاروں سے لے کر اُن تمام میدانوں تک جہاں بارود اور خون کی بو بسی ہوئی تھی جہاں بھی ظلم تھا وہ موجود تھا اور جہاں بھی کسی مظلوم کی آہ سنائی دیتی تھی وہ ایک پہاڑ کی طرح مضبوط کھڑا ہو جاتا تھا
زاہد کی شخصیت نڈر اور فداکار تھی اس نے کبھی تھکن کو اپنے قریب نہ آنے دیا اگر کوئی ساتھی جدوجہد کے راستے میں تھک کر بیٹھ جاتا تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھاتا وہ یقین رکھتا تھا کہ جدوجہد صرف اتحاد سے کامیاب ہو سکتی ہے اسی لیے وہ کبھی کسی کو تنہائی یا غم میں ڈوبنے نہیں دیتا تھا اس کا دل ہمدردی کا سمندر تھا اور اس کا چہرہ ساتھیوں کے لیے چراغ کی مانند
مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ بولان میں اُس سے ملاقات ہوا اگرچہ یہ ملاقات مختصر تھی مگر انہی لمحوں میں اس کی روح کی عظمت کو محسوس کیا جا سکتا تھا زاہد جان کی سادگی اور بے ریائی ہر ایک کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو امید اور ایمان بانٹتی تھی وہ نہ صرف ایک دلیر مجاہد تھا بلکہ ایک مہربان انسان بھی تھا جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا تھا
مگر اس ہیرو کی تقدیر اسے ایک سرخ دن تک لے گئی ۲۰ اگست ۲۰۲۴ کو پنجگور میں ایک گھر جو لمحہ بھر کے لیے ساتھیوں کی پناہ گاہ تھا، خون گاہ بن گیا کہا جاتا ہے کہ ایک مخبر کی غداری نے راستہ دکھایا اور پاکستان کی قابض فوج نے اس گھر پر یلغار کی سرمچار محاصرے میں آ گئے اور گولیوں کی گھن گرج نے دیواروں کو ہلا ڈالا
زاہد جان اپنے قریبی ساتھی، شہید حافظ ممتاز کے ساتھ آخری لمحے تک ڈٹے رہے وہ جانتے تھے کہ ہتھیار ڈالنے کا مطلب اپنے مقصد کو روند ڈالنا ہے اس لیے انہوں نے ہتھیار مضبوطی سے تھامے اور ہر گولی کو دشمن کے دل پر نعرہ بنا کر داغا گھر دھوئیں اور آگ سے بھر گیا مگر ان کے دل ایمان سے روشن تھے
جب آخری گولیاں میگزین میں رہ گئیں تو انہوں نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا یا باعزت موت یا زنجیروں میں زندگی اور انہوں نے شہادت کو چنا آخری گولی داغنے کے ساتھ ہی ان کی جانیں پرواز کر گئیں اور ان کے نام بلوچستان کی خونچکاں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے
زاہد جان محض ایک سرمچار نہیں تھا وہ یاری اور ہمدلی کی علامت تھا آزاد اور جان نثار جوانی کی نشانی تھا اس کی یاد ساتھیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی جیسے اندھیروں میں جلتا ہوا چراغ وہ رخصت ہو گیا مگر اس کا نام جاویداں ہے اور اس کا خون یہ صدا دیتا رہے گا کہ بلوچستان آج بھی ایسے فرزندوں کا مالک ہے جو آزادی کے لیے آخری سانس تک ڈٹے رہیں گے















