حال ہی میں چین مشرقِ وسطیٰ میں ایک علاقائی ثالث اور امن قائم کرنے والے ملک کے طور پر فعال ہوا ہے۔ چین نے 2024 میں بیجنگ معاہدہ کروایا جو حماس اور فتح کے درمیان طے پایا اور 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا. 2025 میں جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو چین نے اس کی مذمت کی اور ثالثی کی پیشکش کی اگرچہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ روایتی طور پر چین کی عدم مداخلت کی پالیسی نے اسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سے دور رکھا لیکن اب اس کے بڑھتے ہوئے معاشی اور تزویراتی مفادات نے اسے اس خطے میں سرگرم ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
چین کی سیکیورٹی کا تصور مغرب سے مختلف ہے کیونکہ مغربی دنیا کے نزدیک سیکیورٹی کا مطلب ہے جنگ یا تنازعے کی عدم موجودگی مگر چین کے نزدیک سیکیورٹی کا مفہوم زیادہ وسیع ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ پائیدار امن صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی استحکام سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا چین مشرقِ وسطیٰ میں روایتی فوجی تحفظ نہیں دے رہا بلکہ عدم تحفظ کے انتظام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یعنی ایسے حالات پیدا کرنا جن سے سب کو فائدہ ہو اور علاقائی استحکام بھی برقرار رہے۔
چین خود کو ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے جو حریف ممالک کے درمیان تنازعات کو کم کرنے اور تصادم کے امکانات کو گھٹانے کے لیے کوشاں ہے۔ 2023 میں چین کی ثالثی سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان 7 سال بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے جسے چین کی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے صرف امن کا جذبہ نہیں بلکہ چین کے معاشی مفادات بھی کارفرما تھے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں آبنائے ہرمز کے دونوں کناروں پر واقع ہیں یعنی یہی وہ راستہ ہے جہاں سے چین کے 45 فیصد تیل اور 29 فیصد مائع قدرتی گیس کی درآمدات آتی ہیں۔ اگر ان دونوں ممالک میں ٹکراؤ ہوتا تو اس گزرگاہ کی بندش چین کے لیے معاشی تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔ چنانچہ چین نے ثالثی کا کردار اپنے معاشی مفاد کے تحفظ کے لیے ادا کیا۔
2024 میں چین نے فتح اور حماس کے درمیان بیجنگ اعلامیہ کروایا۔ جس کا مقصد فلسطینی دھڑوں کی اندرونی تقسیم کو ختم کرنا تھا۔ چین کے مطابق فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے پہلے فلسطینی اتحاد ضروری ہے۔ اس معاہدے سے چین نے نہ صرف تنازع کی شدت کم کرنے کی کوشش کی بلکہ ایران کی حماس کو ممکنہ عسکری مدد روکنے میں بھی مدد دی۔ یوں چین نے دفاعی کردار ادا کرنے کے بجائے سفارتی کردار ادا کیا۔
اسی طرح 2024 کو بحیرہ احمر بحران میں جب حوثیوں نے تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے تو چین نے انہیں فوری طور پر روکنے کا کہا۔ ان حملوں کی وجہ سے تقریباً 90 فیصد جہازوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا جس سے چین کی تجارت بری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن چین نے پھر بھی امریکہ کے فوجی آپریشن “Operation Prosperity Guardian (OPG)” میں شرکت نہیں کی۔ وجوہات یہ تھیں کہ چین نہیں چاہتا تھا کہ وہ امریکی بالادستی کو مضبوط کرے۔ فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے اس کے ایران اور حوثیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے تھے۔ عرب و اسلامی دنیا چین کو اسرائیل کے حامی کے طور پر دیکھتی اگر وہ امریکی اتحاد میں شامل ہوتا۔ چین نے اس کے بجائے حوثیوں سے سفارتی معاہدہ کیا کہ وہ چینی جہازوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور بدلے میں چین انہیں بین الاقوامی سطح پر سیاسی مدد دے گا۔ اس سے چین کی فلسطینی کاز کے حامی کے طور پر ساکھ بہتر ہوئی۔
چین ترقی کے ذریعے امن کو مانتا ہے کیونکہ اقتصادی استحکام سے سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوچ لبرل نظریہ کی عکاس ہے کہ اگر دو ملک ایک دوسرے پر اقتصادی طور پر انحصار کرتے ہوں تو ان کے درمیان جنگ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ میں یہ نظریہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوا کیونکہ یہاں کے تنازعات اکثر مذہبی اور نظریاتی اختلافات پر مبنی ہیں جن کے سامنے اقتصادی مفادات کمزور پڑ جاتے ہیں۔
نتیجہ
چین مشرقِ وسطیٰ میں فوجی طاقت کے ذریعے سیکیورٹی قائم نہیں کر رہا بلکہ سفارت کاری، معاشی ترقی اور متوازن تعلقات کے ذریعے عدم تحفظ کو منظم کر رہا ہے۔ اگرچہ اسرائیل ایران تنازع میں اس کی ثالثی ناکام رہی کیونکہ چین کے پاس فوجی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ پھر بھی وہ خود کو ایک ذمہ دار اور غیر جانب دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ درحقیقت چین کا مقصد علاقائی امن سے زیادہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ مگر اس کے ذریعے خطے میں استحکام کی ایک حد تک بحالی بھی ممکن ہوئی ہے۔















