یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںافغانستان : طالبان کی بهتہ خوری عروج پر

افغانستان : طالبان کی بهتہ خوری عروج پر

قندھار(ہمگام نیوز) افغان طالبان نے موبائل فون کمپنیوں اور صنعتوں سے ایک نئے ‘پروٹیکشن ٹیکس’ کا مطالبہ کردیا ہے

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگجو تنظیم نے جنگ زدہ ملک میں غیر معمولی طور پر کامیاب کاروبار کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے.

اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ماہ ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ کے دوران طالبان کی مرکزی قیادت نے 4 سیلولر کمپنیوں کے نمائندوں سے اُن کی تنصیبات اور ملازمین کو نشانہ نہ بنانے کے بدلے میں مذکورہ ٹیکس کا مطالبہ کیا.

میٹنگ میں شریک 2 ٹیلی کام کمپنیوں کے عہدیداران اور ایک انڈسٹری ایگزیکٹو کے مطابق یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب افغان حکومت نے گذشتہ برس اکتوبر میں ٹیلی کام آپریٹرز پر 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا تھا.

میٹنگ میں شریک ہونے والے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘ طالبان چاہتے ہیں کہ ہم انھیں بھی اتنی ہی رقم ادا کریں جتنی ہم حکومت کو دیتے ہیں’.

عہدیدار کے مطابق ہم نے انھیں بتایا کہ اس سے ہمارا کاروبار تباہ ہوجائے گا لیکن ان کا کہنا تھا کہ، ‘صرف یہی ایک واحد صورت ہے جس سے آپ کے ملازمین کو نقصان نہ پہنچائے جانے اور تنصیبات کو نہ جلائے جانے کی ضمانت دی جاسکتی ہے

اے ایف پی کے مطابق طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے باقاعدہ ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں.

مذکورہ طالبان ذرائع کے مطابق ‘ہم نے انھیں (ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو) بتایا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم افغانستان میں آپ کے ٹرانسمیشن ٹاورز کی حفاظت کریں تو آپ پر ٹیکس لگانا ہمارا حق ہے اور آپ کو یہ ادا کرنا پڑے گا’.

واضح رہے کہ طالبان افغانستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کو نشانہ بنانے،انجینیئرز کو اغواء کرنے اور ٹرانسمیشن ٹاورز کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جبری طور پر کوریج بلیک آؤٹ بھی کرتے رہے ہیں تاکہ ان کے جنگجوؤں کا سراغ نہ لگایا جاسکے.

دوسری جانب مقامی طالبان کمانڈر بھی اپنے علاقوں میں چلنے والے کاروباروں خاص کر ٹیلی کام کمپنیوں اور لاجسٹک کمپنیوں سے بھتہ وصول کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں.

تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مرکزی قیادت نے باقاعدہ طور پر ٹیلی کام کمپنیوں سے اس طرح کا مطالبہ کیا ہے.

دوسری جانب اس مطالبے سے جنگ زدہ افغانستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کو درپیش خطرات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے.

یہ بھی پڑھیں

فیچرز