یہ قومی تحریک ہے بچوں کا کھیل نہیں کہ شام کو لڑ لے اور صبح پھر منہ لڑکڑا کر جمع ہوئیں اور کھود پڑے چیک بیلنس سزا و جزا کے بغیر ہر عمل سے گزرنے کی صورت میں مہران مری جنم لینگے، یا ہاتھوں کی زنجیرین بن کر بکھر جائیں گے اگر ماضی کو دفن کرکے کوئی خوبصورت منزل پر پہنچ جاتے تو بلوچ اس وقت دنیا کی عظیم ترین قوم بن جاتا جو ہمیشہ ماضی کو روایتی انداز میں پس پشت ڈال کر مستبقل کے لیے صف بندیاں کرتا ہے اور رزلٹ پھر بکھرنے کی شکل میں آتا ہے اتحاد او اتفاق کا نعرہ مستانہ لگاکر کوئی بھی قوم کے جذبات سے کھیل سکتا ہے ‘ گزشتہ روز بلوچ ادیب دانشور واجہ میجر مجید کا ایک کُھلا خط بنام بلوچ لیڈران پڑھنے کو ملا ‘ میجر مجید کا علمی قد اور ادب کے میدان میں خدمات سے مجھے انکار نہیں لیکن سیاسی معاملات میں میجر روایتی سوچ کے شکار ہیں اور حقائق کو نظر انداز کرکے جذباتی بنیادوں پر جلد اتحاد کے خوہان ہے واجہ میجر مجید کا کُھلا خط بنام بلوچ قیادت میں راتوں رات کسی اتحاد کا خواہش کو لے کر آزادی پسند او نیم آزادی پسند قیادت کی قربانیوں اور ان پر شک نہ کرنے والا فلسفہ میری کم علمی کی بنیاد پر مجھ سمج نہیں آیا لیکن اتنا سمج سکا کہ سب ایماندار ہیں تو کیوں یہ سب ایماندار آج تک یکجہتی کی طرف نہیں گئے ؟ جو نتیجہ میں اخذ کیا تو وہ واجہ بلوچ اجتماعی طاقت کی منتشر ہونے کے سبب کو بدگمانی قرار دیتے ہیں ‘ تو کیا واجہ میجر مجید بلوچ مسلح تنظمیوں یا سیاسی پارٹیوں میں اس پیدا شدہ بدگمانی کا تشریح کرسکتے ہیں کہ یہ بد گمانی کب کیسے پیدا ہوئے ہیں ؟ واجہ میجر مجید کے خط میں اتفاق او اتحاد پر ایک ایک الفاظ سے میں سمیت کوئی بلوچ انکار نہیں کرسکتا ہے ایک ایسے وقت میں جب چین اور پاکستان طاقت کے ذریعے بلوچ پر یلغار کیے ہوئے ہیں پاکستانی فوج طاقت کے زور پر بلوچ بستیوں کو اجھاڑ رہا ہے بلوچ شناخت کو خطرہ لاحق ہے کوئی بے وقوف اتحاد او یکجہتی سے انکار کرسکتا ہے. آج بلوچ معاشرے میں پاکستانی جبر سے ذیادہ بلوچ اپنے قیادت کی انتشار کو دیکھ کر رنجیدہ ہے لیکن ماضی کو دفن کرکے مستقبل کے لیے صف بندی کا خواہش انتہائی خوفناک عمل ہوگا. اگر ہمیں مستقبل کے لیے اتحاد و یکجہتی کی عمل سے گزرنا ہے تو ماضی کو مد نظر رکھ فیصلے کرنے ہونگے. وگرنہ واجہ میجر مجید کی تھیوری میں اتحاد کا خشر جینوا اتحاد یا بلوچ نشنل فرنٹ سے بد تر ہوگا. جس طرح چند وقت پہلے جینوا ماسوائے سنگت خیر بیار مری یہ سب قیادت جن سے واجہ نے اتحاد اور خیر بیار کی کمک کرنے کا اپیل کیا ہے جمع ہوگئے ہاتھوں کے زنجیر بھی بن گئے کارکنوں میں خوشی کا لہر توڑ گیا اگر اس ہاتھوں کی زنجیر اور اتحاد کے نعرہ مستانہ سے پہلے بی این ایف کی رسوائی کا وجوہات جانے جاتے یا ذمہداروں کو سزا و جزا کے عمل سے گزرا جاتا تو زنجیر بکھرنے سے بچ جاتے لیکن اس اتحاد کا مقصد صرف سنگت خیربیار مری کے خلاف پریشر بڑھنا تھا کہ وہ ہمارے جائز او نا جائز ہر عمل پر خاموش رہے اور اس اتحاد خشر سب نے دیکھ لیا جس طرح واجہ میجر مجید بلوچ قیادت کی انتشار کو بدگمانی یا انا کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں اور اسی بدگمانی اور انا کو پس پشت ڈال کر گزشتہ کئی آرٹیکل میں واجہ میجر مجید بلوچ تحریک میں چند ایک رہنماؤں پر الزام تراشی کرتے رہے ایک اصولی اتحاد اور ٹھوٹ پھوٹ کے عمل پر جوابدہی عمل سے پہلے مجھ سمیت میجر اور ہر لکھاری کو بھی اپنے ایک ایک الفاظ کا جوابدہ ہونا پڑے گا کیا واجہ میجر یا کوئی اور اتحاد کا خواہش رکھنے والا جوابدہی کے لیے تیار ہے جس طرح استاد بلوچ خان کہتے ہیں کہ مشترکہ حکمت عملیوں کے لئے سوچ کا مشترک ہونا لازمی ہے جس کا اس وقت فقدان ہے جہاں تک بات حکمت عملی اور طریقہ کار کی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ حکمت عملی طریقہ کار سمیت نقطہ نظر کو لے کر جدوجہد میں اختلافات کی نوعیت نظریاتی رخ اختیار کرتے جارہے ہیں ہم پچھلے ایک عشرے سے حالت جنگ میں ہیں ہمیں ہر آنے والے دن میں مختلف حالات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جہان تک ان چیلنجز کا تعلق ہے ریاستی جبر کے علاوہ شاید بلوچ قیادت کی منتشری بھی ہو. بلوچ کی منتشر قوت کو ایک اجتماعی شکل میں لانے کے لیے سنگت خیر بیار مری نے چارٹر پیش کرکے تمام قیادت سے تجویز طلب کیے لیکن غیر سنجیدہ قیادت نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے اُسے مسترد کیا اگر واجہ میجر مجید اس پر تجربہ کرتے تو ایک خوبصورت بحث کا آغاز ہوتا بجائے کسی جذباتی اتحاد پر اپیلین کرتا رہتا جو لیڈر اپنے اصولوں کو مقدس رکھتے ہوئے اپنے والد اور بھائی سے راستہ جدا کرتے ہیں اس سے روایتی اتحاد کے داعی بننے کا خواہش رکھنا صرف قوم کی جذبات سے کھیلنا ہے اگر ہم سمیت واجہ میجر مجید بلوچ کسی اتحاد و یکجھتی کا خواہش رکھتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ان مسائل کو نشاندہی کرنا ہوگا جو ہمارے اجتماعی قوت کو منتشر کررہے ہیں بقول استاد بلوچ خان موجودہ تقسیم کسی حکمت عملی اور الگ طریقہ کار کی وجہ نہیں سے نہیں بلکہ تاریخی اور روایتی سوچ کی مضبوطی کے تاثر کو ابھارتا ہے ان دوریوں کو کم کرنے اور فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کسی بھی نوعیت کی بات چيت کیلئے ہماری طرف سے مندرجہ بلا موقف کو اولیت حاصل ہوگی۔ کسی بھی اتحاد کے لیے سب پہلے ان چیزوں کو کنڑول کرنا ہوگا جو بلوچ قوت کو منتشر کرنے کے سبب بنے اور اس کے بعد ایک سزا و جزا کے عمل سے ان کرداروں کو گزرانا ہوگا جو تنظمیوں کو توڑ کر سیاسی بلیک میلنگ کے ذریعے بلوچ تحریک کو اپنے زاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے اور اس عمل کے بعد اگر ایک اتحاد بن سکا تو وہ دیرپا ہوگا.وقتی اتحادوں یا زنجیروں سے ہم صرف اپنے آپکو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن کسی کامیابی کی طرف جا نہیں سکتے آج بلوچ قومی ازادی کے نام پر جتنے پارٹیاں تنظمیں بنائے گئے ہیں میرے خیال میں اتنی بار غیر فطری اتحادیں بھی بنے اور ٹوٹے ہیں لیکن انکا فائدہ کم اور نقصان بلوچ کو زیادہ ہوئے ہیں تو کسی ایسے اتحاد کے لیےپھر ہاتھ پاؤں مارنا جس کو ہر حال میں بکھرنا ہے بہتر ہے کہ ان وجوہات پر نیک نیتی سے تحقیقات کرنا لکھنا جو گروہیت کی طرف ہم لے جارہے ہیں زیادہ مفید ہوگا اگر آنے والے کل کو دو تین بلوچ قیادت بیٹھ کر اتحاد کریں تو وہ دیرپا اور با مقصد ہوگا.















