برصغیر جنوبی ایشیا کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں گزشتہ سو برسوں میں لاکھوں انسان بلاوجہ مارے گئے اور کروڑوں لوگ غربت، جلاوطنی اور بدحالی کا شکار ہوئے۔ ان تمام سانحات کے پس منظر میں طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے اور فوجی بالادستی نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے بالخصوص پاکستان میں وہ طبقہ جس پر تاریخی طور پر پنجابی جرنیلوں کی اجارہ داری رہی ہے۔
1947 کی تقسیمِ ہند، جو برطانوی سامراج کے آخری فیصلے کے طور پر عمل میں آئی، انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت بنی۔ تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ اپنی زمینوں سے بے دخل ہوئے، جبکہ دس سے بارہ لاکھ کے درمیان افراد فسادات اور قتلِ عام میں مارے گئے۔ اس تقسیم نے برصغیر میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت کے بیج بوئے، جن کے اثرات آج تک باقی ہیں۔
صرف 24 برس بعد 1971 میں بنگلہ دیش کا قیام ایک اور المیہ بن گیا۔ مختلف تاریخی ذرائع کے مطابق، مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں فوجی آپریشن کے دوران **تین سے پانچ لاکھ** عام شہری مارے گئے، جبکہ لاکھوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سانحے نے یہ ظاہر کیا کہ طاقت کے بل پر ایک قوم کو دبانے کی پالیسی ہمیشہ خون اور تباہی لاتی ہے۔
بلوچستان کا المیہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ 1948 میں بلوچستان پر فوجی قبضے کے بعد سے آج تک وہاں ہزاروں بلوچ کارکنوں کی جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل عام، اور قید و بند کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک عمومی دہشت پھیلائی گئی ہے تاکہ بلوچ عوام قومی تحریک میں شامل نہ ہوں۔ Containment Policy کے تحت بلوچ سرزمین کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کرتے ہوئے بلوچ عوام کو جان بوجھ کر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ گیس، سونا، تانبہ اور دیگر معدنی وسائل سے حاصل شدہ دولت تمامیت کے ساتھ پنجاب کی ترقی اور فوجی اداروں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، جبکہ بلوچ آبادی کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ قانون اور عدالت نام کی کوئی شے وجود ہی نہیں رکھتی۔ مواصلات، اندرونی سڑکیں، بجلی، گھر، روزگار، صحت عامہ وغیرہ کا کوئی وجود نہیں۔ کرپشن کی ایک ایسی عجیب و غریب انسانوں کی فوج تیار کی گئی ہے جس کا تصور انسانی تاریخ میں وجود نہیں رکھتا۔ ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے میں پنجابی جرنیلوں کا ہاتھ بٹائیں۔ بلوچستان میں پاکستان کا وجود سر سے پاؤں تک مکر و فریب کا ایک بدنما مجسمہ ہے، جسے دیکھ کر ہر بلوچ کو الٹی آئے۔
افغانستان بھی طاقت کی اسی گیم کا شکار رہا۔ 1979 میں سوویت حملے کے بعد پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مذہب کے نام پر جہاد کو فروغ دیا، جس نے آنے والے عشروں میں پورے خطے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں لے لیا۔ لاکھوں افغان شہری مارے گئے، کروڑوں بے گھر ہوئے، اور ایک ترقی یافتہ ملک کھنڈرات میں بدل گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے الفاظ اس پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں “افغانستان میں آگ ہمیشہ ایک سطح پر سلگتی رہنی چاہیے۔” اس آگ نے صرف افغانستان نہیں، بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، عسکریت پسندی اور معاشی زوال میں دھکیل دیا۔
ان تمام تاریخی سانحات کا بوجھ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر ہے۔ اگر کوئی محقق ان تمام واقعات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرے تو شاید “ڈبل پی ایچ ڈی” بھی کم پڑ جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ پنجابی جرنیل جو پنجاب کے اصل حکمران ہیں کہاں تک قتل و غارت گری کے پالیسی کے تحت پاکستان کے نام پر اس خطے کی کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل کھیلتے رہیں گے؟ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو اور ریاست عوامی مفاد کے بجائے عسکری مفادات کے تابع ہوجائے، تو نتیجہ ہمیشہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔















