اہواز(ہمگام نیوز)اہواز کی انقلاب عدالت نے تین عرب شہریوں کو “دہشتگرد اور تکفیری گروہوں سے تعلق” کے الزام میں مجموعی طور پر 40 سال قید اور جلاوطنی کی سزا سنائی ہے۔

یہ سزائیں قاضی کِتی، صدر شاخ دوم انقلاب عدالت اہواز، نے تین عقیدتی قیدیوں — حسین سحاگی، جاسم لویمی اور صالح سرخی — کے خلاف سنائی ہیں۔

کارون ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق:

حسین سحاگی اور صالح سرخی کو 12 سال قید اور 2 سال جلاوطنی کی سزا سنائی گئی۔

جاسم لویمی کو 10 سال قید اور 2 سال جلاوطنی کی سزا دی گئی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف پیش کیے گئے ثبوت صرف چند سوشل میڈیا سے ڈاؤن لوڈ شدہ تصاویر پر مشتمل تھے، اور کوئی معتبر عدالتی دستاویز موجود نہیں جو ان کے مسلح گروہوں سے تعلق کو ثابت کرے۔ مزید یہ کہ مقدمے کی کارروائی غیر شفاف تھی اور دورانِ تفتیش غیر قانونی دباؤ اور تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حسین سحاگی جو اس وقت شعبان جیل اہواز کے بند نمبر 5 میں قید ہیں، گرفتاری کے بعد سے ہی شدید تشدد، دھمکیوں اور سخت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔

گزشتہ سال مئی میں رپورٹ ہوا تھا کہ حسین سحاگی نے تشدد اور ذہنی اذیت کے باعث کھانا پینا، سونا اور بولنا ترک کردیا تھا، جس پر انہیں عارضی طور پر اہواز کے نفسیاتی مرکز منتقل کیا گیا۔ اس کے باوجود ان کی خراب صحت کے پیشِ نظر، جیل حکام نے نہ تو ان کی علاجی مرخصی منظور کی اور نہ ہی مناسب طبی مرکز میں منتقلی، بلکہ دوبارہ انہیں عام قیدیوں کے بند میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔