جب انگریز نے برصغیر پر اپنی حکومت مضبوط کی تو پنجاب اس کے لیے صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ ایک ہتھیار بن گیا۔ 1857 کی بغاوت میں جہاں پورا ہندوستان سلطنت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تو وہیں پنجاب نے انگریز کے شانہ بشانہ لڑ کر اس کی راج کو بچا لیا۔
پنجابی مسلمان زمینداروں ، اعوانوں ، راجپوتوں اور جنجوعوں نے انگریز فوج میں بھرتیاں کروا کر بغاوت کچلنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
یوں پنجاب “وفادار صوبہ” کہلایا اور پنجابی مسلمان “انگریز کے دل کے قریب ترین سپاہی” بن گئے۔ (سید حسین شہید سہروردی Punjabisation in the British Indian Army, 2010)
1857 کے بعد انگریز نے “مارشل ریس” کی تھیوری کے تحت چند نسلوں کو بہادر اور وفادار قرار دیا بلکہ یہ بہادری نہیں دلار اور مراحات کے لالچ میں اپنے ہی لوگوں اور لڑکیوں کو انگریز کے کمروں تک لے جاتے تھے ، ان میں سرفہرست پنجابی مسلمان تھے — خاص طور پر پوٹھوہار، جہلم، شاہپور اور راولپنڈی کے لوگ۔ ہیتر اسٹریٹس کے مطابق یہ فیصلہ محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی تھا تاکہ انگریز کے لیے ایک ایسا طبقہ تیار کیا جا سکے جو ہمیشہ وفادار رہے۔
(ہیتر اسٹریٹس، Martial Races, 2004)
پہلی جنگِ عظیم کے دوران جب یورپ کی سرزمین آگ اگل رہی تھی تو ہندوستانی فوج میں بھرتی ہونے والے 6,83,149 سپاہیوں میں سے تقریباً ساٹھ فیصد پنجاب سے تھے اور ان میں سب سے بڑی تعداد پنجابی مسلمانوں کی تھی۔
(ڈیوڈ اومسی، Indian Voices of the Great War, 1999)
ان سپاہیوں کے خطوط میں ایک عجیب سا جذبہ جھلکتا ہے: “ہم انگریز بادشاہ کے سپاہی ہیں، اس کی جنگ ہماری جنگ ہے۔”
( ڈیوڈاومسی)
یہ وفاداری صرف ایمان یا عشق نہیں تھی بلکہ انعامات جاگیروں اور سماجی مرتبے کا سودا بھی تھی۔ ڈاکٹر طاہر محمود لکھتے ہیں کہ پنجاب کے جاگیردار خاندان مثلاً ٹوانہ اور شاہپور کے ملک فوجی بھرتی کے ذریعے انگریز کے سب سے معتبر “کارندے” بن گئے۔ (طاہر محمود، Collaboration and British Military Recruitment, 2016)
کیٹ ایمی نے اپنی کتاب Faithful Fighters میں لکھا کہ برطانوی حکومت نے “وفادار پنجابی مسلمان سپاہی” کی تصویر ایک مثالی کردار کے طور پر تراشی — ایسا کردار جو نہ سوال کرتا ہے، نہ بغاوت، بس حکم بجا لاتا ہے۔
دلاری کی روایت آج بھی جاری ہے جب برطانوی سلطنت گئی تو وفاداری کا مرکز بدل گیا مگر ذہنیت وہی رہی۔ عائشہ جلال لکھتی ہیں کہ یہی طبقہ بعد میں پاکستان کی فوجی و ریاستی اشرافیہ بن گیا ، اور انگریز کی خدمت کے اصول اب “ریاست سے وفاداری” کے نام پر جاری رہے۔
1947 کے بعد پنجاب کا سپاہی وہی وفادار کردار نئے پرچم کے نیچے نبھانے لگا ہے اب اس کے سامنے تاجِ برطانیہ نہیں بلکہ واشنگٹن ، ریاض اور بیجنگ جیسے نئے مراکزِ طاقت تھے۔
سویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں یہی ریاست جس کی جڑیں پنجاب کے وفادار فوجی ڈھانچے سے نکلتی ہیں ـ امریکہ اور سعودی عرب کی “دلاری” بن گئی۔
پنجابی افسران مذہبی جنگجو، مدارس اور ایجنسیاں سب مل کر ایک نئی نوکری پر لگ گئے جس میں بندوقیں بھی انہی کی تھیں، ایمان بھی انہی کے کام آیا ، اور بدلے میں ڈالر، جاگیریں، اور لندن یا امریکہ میں قیام کی مراعات ملیں۔
(احمد رشید، Taliban: Militant Islam, Oil and Fundamentalism in Central Asia, 2000)
جنگ ختم ہوئی تو انہی مذہبی جنگجوؤں کو “دہشت گرد” کہہ کر فروخت کیا گیا ، .کسی کو سی آئی اے کے ہاتھ بیچا گیا، کسی کو بلیک واٹر کے طیارے لے گئے — اور پاکستان نے بدلے میں فوجی امداد اور قرضے وصول کیے۔ یہ وہی پرانی وفاداری تھی، بس آقا بدل گیا تھا۔
آج بھی وہی کہانی جاری ہے۔ ایران کے خلاف سیاسی صف بندی ہو یا افغانوں کی بربادی اور فلسطین کے معاملے پر خاموشی — پاکستان ہمیشہ کسی طاقت کے اشارے پر کھڑا ہوتا ہے۔
کبھی امریکہ کا دلار، کبھی سعودی عرب کا حلیف، کبھی چین کا دوست — لیکن کبھی اپنی سیاسی بلاک نہیں ۔ یہی پنجابی وفاداری کی روایت ہے،
جو تاجِ برطانیہ سے لے کر تاجِ ریاض و واشنگٹن تک بغیر رُکے چلتی آ رہی ہے۔















