خضدار (ہمگام نیوز) لاپتہ اسیران کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔ اُن کو رواں سال مارچ میں سات سال مکمل ہورہے ہیں لیکن اب تک اُن کا کوئی ایتہ پتہ نہیں ہیں۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں اور لاپتہ بلوچوں کے عدم بازیابی کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے بلوچ پولٹیکل ایکٹوسٹ لطیف بلوچ نے کہا ہیکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہورہی ہیں اور انسانی حقوق کے پامالی و بلوچ پولٹیکل ورکروں کو لاپتہ کرنے میں براہ راست ریاستی خفیہ ادارے اور فورسز ملوث ہیں جو بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے اس طرح کے حربے استعمال کررہے ہیں اس وقت بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پاپندی عائد ہے کسی کو بھی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں ہے۔ اگر بلوچ فرزند اپنے قومی آزادی، حقوق، وسائل کی لوٹ مار کے خلاف آواز بلند کریں تو اُنھیں دہشت گرد قرار دے کر اغواء کرکے لاپتہ کیا جاتا ہے اور ٹارچر سیلوں میں انھیں بدترین انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناکر شہید کی جاتی ہیں اب تک بلوچستان سے 25 ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہیں جن میں خواتین و بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میرے بھائی کبیر بلوچ اور اُس کے ساتھیوں کو قریبََا سات سال قبل ڈیتھ اسکواڈ اور ایف سی کے اہلکاروں نے اغواء کرکے لاپتہ کئے لیکن اُن کے متعلق ہر وقت غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے اگر اُنہوں نے کوئی جرم کیا تھا تو اُن کو ریاستی ادارے اپنے عدالتوں میں پیش کریں ہمیں تو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہیکہ یہ پاکستان کے آئین اور اداروں سے باغی ہے لیکن پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے خود اپنے آئین، قانون اور عدالتوں کو نہیں مانتے تو اُن کو کیا نام دیا جائے۔ عدالتیں بھی اُنکی ہے اور اُن کے ڈکیٹشن سے فیصلہ سناتے ہے جس کا ایک واضع مثال نواب اکبر بگٹی قتل کیس ہے عدالت نے بغیر کسی کاروائی کے یکطرفہ فیصلہ دے کر پرویز مشرف کو بری کردیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت اور چین و پاکستان کی جانب سے بلوچ وسائل کی لوٹ مار اور ساحل پر قبضے کا نوٹس لیں کیونکہ بلوچ قوم جنگی حالات کا سامنا کررہی ہیں اپنی ساحل، وسائل، اور سرزمین پر قبضہ کے خلاف برسرپیکار ہیں ایسے حالات میں بلوچ سرزمین پر سرمایہ کاری سے چین سمیت دیگر قوتوں کو روکا جائے اور بلوچ قوم کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد فراہم کیا جائے۔


