شیر خان مری بلوچ تحریکِ آزادی کا ایک ایسا درخشاں مگر نسبتاً گمنام نام ہے جنہوں نے اپنی آخری سانس تک بلوچ قوم کی آزادی کی شمع کو جلائے رکھا۔ اگرچہ انہوں نے کسی یونیورسٹی سے رسمی تعلیم حاصل نہیں کی، مگر ان کا تجربہ، فہم، اور عملی دانش انہیں تحریکِ آزادی کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل کرتا ہے۔ ان کی زندگی جفا کشی، ایمانداری، اور قومی وفاداری کی ایک ایسی مثال ہے جس سے آج کا ہر باشعور بلوچ نوجوان رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
بھٹو دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری ایام تک شیر خان مری بلوچ نوجوانوں کے لیے نہ صرف ایک نظریاتی مورچہ تھے بلکہ ایک فکری درسگاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے، اپنے نظریے اور مقصد کے لیے کوہِ ہمالیہ جیسی ثابت قدمی دکھائی۔ وہ پیدائشی مزاحمت کار تھے، انہوں نے پاکستان کے تمام قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کی، جب بھٹو حکومت نے بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا اس زمانے میں ہزاروں مری بلوچ افغانستان کی جانب ہجرت کر گئے، اور شیر خان مری بھی 1982 میں نواب خیر بخش مری اور ان کے نظریاتی ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان چلے گئے۔ مگر وہاں جا کر بھی انہوں نے آرام کو اختیار نہیں کیا بلکہ نوجوانوں کی فکری و عسکری تربیت کو اپنی ذمہ داری بنایا۔
جب 1993 میں وہ بلوچستان واپس آئے تو حالات سخت اور تحریک مدہم تھی، مگر شیر خان مری اور ان کے ہزاروں سپوتوں نے اپنی بصیرت اور عزم سے اس ماندہ چنگاری کو دوبارہ شعلہ بنا دیا۔ انہوں نے کوہستانِ مری، خاص طور پر چمالنگ، کاہان، کوہلو، اور بارکھان کے علاقوں میں بلوچ مزاحمت کو منظم رکھا۔ وہ نہ صرف ایک باہمت مجاہد تھے بلکہ ایک نظریاتی استاد کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ ان کی قیادت میں بلوچ جدوجہد نے ایک نیا روحانی اور فکری جوش حاصل کیا۔ وہ مزاحمتی کمانڈر کے ساتھ ساتھ ایک دور اندیش سیاسی مدبر بھی تھے، جو سماجی اور قومی فیصلوں اور جھگڑوں کے انصاف پر مبنی تصفیہ کرکے مری بلوچوں کو آپس میں شیر و شکر بھی کرتے تھے۔
جنرل مشرف کے دور میں جب ظلم و جبر کی انتہا ہوئی تو شیر خان مری اور ان کے قبیلے کے متعدد افراد قید و بند کی صعوبتوں کا شکار بنے۔ اس کے باوجود شیر خان مری نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ نواب خیر بخش مری اور سنگت حیربیار مری کے سخت اور نظریاتی مؤقف کے ساتھ مخلصی سے وابستہ رہے۔ ان کا کردار اس بات کی روشن مثال ہے کہ سچے، مخلص اور نظریاتی کارکن کبھی حالات کے دباؤ میں اپنا راستہ نہیں بدلتا۔
جب بلوچ طلباء تنظیم بی ایس او کے رہنماؤں — ڈاکٹر اللہ نظر، ڈاکٹر امداد بلوچ، ڈاکٹر نسیم، اور دیگر — کو جبری طور پر غائب کیا گیا، تب شیر خان مری نے بی ایس او سے وابسطہ اپنے جوان سال بیٹے ڈاکٹر سہراب بلوچ کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کی بھرپور حمایت کی۔ ان کی حوصلہ افزائی سے یہ احتجاج ایک تاریخی رخ اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کو بالآخر سہراب مری اور ان کے ساتھی کے مطالبہ کے سامنے جھکنا پڑا اور گمشدہ رہنماؤں کو منظرِ عام پر لایا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیر خان مری کے گھرانے نے صرف نظریاتی باتوں اور مباحثوں تک اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی قربانیاں بھی پیش کیں۔
ان کے بڑے صاحبزادے، سفر خان مری، پچھلے پندرہ برسوں سے ریاستی قید و بند کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے خاندان نے ہمت نہیں ہاری اور آج بھی قومی ذمہ داریوں کو نبھانے میں سرگرم ہے۔ یہ وہ حوصلہ ہے جو صرف اُن خاندانوں میں پایا جاتا ہے جن کی بنیاد قربانی اور ایمان پر رکھی گئی ہو۔
شیر خان مری نہ صرف ایک انقلابی رہنما تھے بلکہ ایک فکری نظریہ بھی تھے۔ ان کی گفتگو میں شعور، ان کے عمل میں صداقت، اور ان کی قربانی میں خلوص جھلکتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قوموں کی روحانی بیداری کا نام ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ بلوچ نوجوان اگر اپنے ماضی کو سمجھ لیں تو مستقبل کی تعمیر میں کسی بیرونی طاقت کا محتاج نہیں رہے گا۔
دس نومبر 2017 کو شیر خان مری کوئٹہ کے نواحی علاقے نیوکاہان میں کینسر کے طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ مگر ان کا نام، ان کا عزم، اور ان کی جدوجہد ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ اس مٹی کے اُن سپوتوں میں سے ہیں جنہوں نے ذاتی زندگی، آسائش، اور آرام کو ترک کر کے قومی مفاد کو ترجیح دی۔
آج جب ان کی آٹھویں برسی منائی جا رہی ہے تو یہ محض ایک یاد نہیں بلکہ عہدِ وفا کی تجدید ہے۔ ہمیں ان جیسے گمنام مگر لازوال کرداروں کو یاد رکھنا ہوگا جنہوں نے اپنے خون سے تاریخ لکھی اور اپنی قربانیوں سے آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کا راستہ روشن کیا۔
شیر خان مری کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تحریکیں صرف بندوق سے نہیں بلکہ ایمان، قربانی، اور فکری استقامت سے کامیاب ہوتی ہیں۔ ان کی کمی یقیناً ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی، مگر ان کی دی ہوئی تعلیمات اور قربانیاں بلوچ قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔















