تحریر ۔ سلام سنجر

بلوچ قوم اس وقت جس دور سے گزر رہی ہے، وہ اس کے اجتماعی وجود کے لیے فیصلہ کن لمحہ ہے ۔ ایران اور پاکستان کی ریاستیں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بلوچ نوجوانوں کو دو محاذوں پر نشانہ بنا رہی ہیں ۔ ایک طرف قتل، جبری گمشدگی اور ریاستی تشدد ہے، جو نوجوان نسل کی ہمت توڑنے کا ہتھکنڈہ ہے ۔ دوسری طرف ثقافتی یلغار ہے، جس کے ذریعے نئی نسل کو اپنی زبان، تاریخ اور قومی احساس سے دور کیا جا رہا ہے یہ وہ اقدامات ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ قابض طاقتیں بلوچ قوم کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔

گزشتہ چھ سے دس سال اس خوف کی عملی شکل ہیں، سینکڑوں نوجوان شہید کیے گئے، لاتعداد جبری گمشدہ ہوئے اور درجنوں خاندان تباہ ہوئے ۔ یہ سانحے صرف فرد کا نقصان نہیں، بلکہ پوری قوم کی اجتماعیت پر حملے ہیں ۔ نسل نو کو دیوار سے لگانے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ وہ خاموش ہو جائے، اصل مقصد یہ ہے کہ وہ قومی شعور اور حق آزادی کی شعور سے دور رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں نوجوان نسلیں ہر جگہ اپنی ریاستوں کے ناکارہ نظام سے ٹکر لے رہی ہیں جنہیں کبھی مذاق میں برگر یا چاکلیٹی نسل کہا جاتا تھا، وہ آج اپنے ملکوں میں بدعنوان حکومتوں کو ہلا کر رکھ رہی ہیں سری لنکا، ہانگ کانگ، چلی، نیپال، فرانس لبنان اور کئی ملکوں میں نوجوان آنے والے وقت کی شکل بدل رہے ہیں ۔ بلوچ نسل نو بھی اسی عالمی روح سے متاثر ہے، اسی لیے قابضین خاص طور پر اسی نسل سے خوفزدہ ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ یہ نسل جنگ آزادی کے سائے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس نے اپنے اردگرد ظلم کو نزدیک سے دیکھا ہے ۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو جذباتی نہیں، باشعور ہیں۔ ان کے اندر خوف کی جگہ تڑپ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس نے قابض ریاستوں کو سخت اقدامات پر مجبور کر رکھا ہے۔

قابض ریاستوں کی حکمت عملی سے ان کا پہلا ہتھکنڈہ یہ ہے کہ جس نوجوان میں آزادی کی واضح فکر ابھرنے لگتی ہے تو اسے نشانہ بنایا جاتا ہے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے قتل، جبری گمشدگی اور جیلوں میں تشدد ان کی آزادی کی سوچ کو روکنے کے پرانے لیکن مؤثر ہتھیار ہیں ۔ قابض ایران و پاکستان کا دوسرا ہتھکنڈہ یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو اس کی زبان، ثقافت اور تاریخ سے الگ کرکے اسے پاکستانی یا ایرانی شناخت میں ڈھالنا ہے تاکہ ان اندر بلوچی جوہر، آزادی کی امنگ و خواہش اور بلوچیت مکمل زائل ہو سکے ۔ آج بلوچستان میں سرکاری ثقافتی میلوں، پرفارمنسز، اور نوجوان پروگراموں کے نام پر ذہنی یلغار کی جا رہی ہے ۔ نوجوانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا نظام اقدار پرانا اور غیر عملی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ اقدار دنیا کی بہترین روایتی اخلاقیات میں شمار ہوتی ہیں۔

ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں کیا دیا؟ بہادری، مہمان نوازی، عورت اور بچے کی حرمت، وطن سے محبت، سچائی، غیرت اور فریب سے دور رہنا ، یہ وہ اقدار ہیں جو کسی بھی آزاد قوم کی بنیاد ہوتی ہیں ۔ آج یہی اقدار نوجوانوں سے دور کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ پنجابی اور قاجاری سوچ میں ڈھل جائیں۔

لیکن اس بحران کے پیچھے امید بھی چھپی ہے ۔ بلوچ قیادت کا موجودہ ڈھانچہ ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں میں پیدا ہونے والی نسل کا ہے ۔ یہ لوگ غلامی کے ماحول میں پلے بڑھے، اس لیے ان کے اندر علاقائی تقسیم، سیاسی احتیاط اور فیصلہ کرنے میں تاخیر جیسے مسائل دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ان سے قوم کو بڑی توقعات ہیں، لیکن اب اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ قیادت نئی نسل کو آگے آنے دے کیونکہ یہ جنگ آزادی نوجوانوں کی نسل کے سامنے برپا ہوئی ہے، انہوں نے ظلم اور مزاحمت دونوں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔ اگر انہیں قیادت کا موقع ملا تو وہ پرانی کمزوریوں کو دفن کرکے ایک نئے باب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

دنیا میں نوجوانوں کی قوت کی مثالیں ہیں بڑے عالمی دانشور ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ ہر انقلاب کا مرکز نوجوان ہوتے ہیں ۔ فرانتس فانون نے کہا تھا کہ ہر نسل کو اپنے تاریخی مشن کی پہچان خود کرنی ہوتی ہے، چاہے وہ مشن مشکل ہو ، ژاں پال سارتر نے نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ جب انسان ظلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے ، گریٹا تھنبرگ جنہوں نے اکیلی آواز سے پوری دنیا کے سیاسی نظام کو ماحولیاتی انصاف پر مجبور کیا ہے۔

یہ تمام مثالیں اس بات کا اعلان ہیں کہ دنیا کی آئندہ قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوگی، وہی جو ظلم کو برداشت نہیں کرتا، سمجھوتے کے بجائے مزاحمت اور انصاف پر کھڑا رہتا ہے۔

بلوچ قوم کے لیے راستہ واضح ہے۔ اگر بلوچ قیادت نئی نسل کو آگے لائے، ان کی تربیت کرے، ان کا ادب اور لٹریچر تیار کرے، تاریخ، ثقافت، جغرافیہ اور قومی شعور پر مضبوط مواد فراہم کرے، تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور آن لائن تعلیم کے پلیٹ فارم بنائے… تو یہی نسل آنے والے وقت میں آزادی کی تحریک کو نئی سطح تک لے جا سکتی ہے ، کیونکہ نئی بلوچ نسل بے خوف ہے۔وہ صرف مادر وطن کو کی حفاظت جانتی ہے۔

انہی میں سے کل کے رہنما پیدا ہوں گے، اگر آج انہیں ہاتھ پکڑ کر آگے لایا جائے۔

بلوچ نوجوان آزادی کا شعور رکھتا ہے جو با خبر ہے ان کی سیکیورٹی بھی لازمی ہے۔

انہیں یہ تربیت دینا لازمی ہے کہ دشمن سے کس طرح خود بچائے رکھنا ہے اور کس طرح دشمن کی کمر توڑنا ہے۔