شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںایرانی جیلوں میں نومبر 2025 کے دوران کم از کم 260 قیدیوں...

ایرانی جیلوں میں نومبر 2025 کے دوران کم از کم 260 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

دزاپ ( ہمگام نیوز )ایران پچھلے مہینے کے دوران ایران کی جیلوں میں کم از کم 260 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نومبر 2024 کے مقابلے میں کم از کم 134 مقدمات یعنی 106 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں ۔ پچھلے سال نومبر میں 126 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد ہوا تھا ۔ یہ اعداد و شمار ایران میں پچھلے دو عشروں میں ایک مہینے کے دوران اعدام کیے جانے والے قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔

ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ہنگاؤ کے مرکز شماریات اور دستاویزات میں رجسٹرڈ اعداد و شمار کے مطابق، نومبر 2025 کے دوران ایران کی جیلوں میں کم از کم 260 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 257 پھانسی دئیے جانے والے قیدیوں کی مکمل شناخت ہنگاؤ کے لیے تصدیق شدہ ہے جبکہ باقی 3 کی شناخت کی جانچ پڑتال جاری ہے ۔

نومبر کے مہینے میں سیاسی اور مذہبی قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا ۔

اس رپورٹ کے مطابق، کم از کم 7 خواتین کو خرم آباد، بندر عباس، تبریز، دامغان، ساری، مشہد اور شیراز کی جیلوں میں پھانسی دیا گیا ۔ میترا زمانی خرم آباد سے، کبری رضائی یزد سے، قمری عباس زادہ ساری سے اور مہین رحیمی مشہد سے قتل عمد کے الزام میں، جبکہ باقی 4 خواتین یعنی زہرا میرغفاری ہشترود سے، زہرا خانبابائی بندر عباس سے، شوکت ویسی دامغان سے اور مینا صدوقی کرج سے منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں گرفتار اور سزائے موت کی محکوم تھیں ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر میں پھانسی دیئے جانے والے 260 قیدیوں میں سے صرف 2 مقدمات یعنی کل مقدمات کا 1 فیصد سے بھی کم ایران کی سرکاری ذرائع اور عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹس پر اعلان کیا گیا ۔ اس کے علاوہ 4 قیدیوں کی سزائے موت خفیہ طور پر اور خاندان کو اطلاع دیے بغیر عمل میں لائی گئی، جنہیں خاندان سے آخری ملاقات کا حق بھی نہیں دیا گیا ۔

 قومی اور نسلی اقلیتوں کے لحاظ سے تقسیم

اس رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران ایران کی جیلوں میں کم از کم 43 لور قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا جو کل کیسز کا 16.5 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ 35 کرد قیدی (کل کیسز کا 13.5 فیصد)، 22 ترک قیدی اور 13 عرب قیدی بھی پھانسی دیے گئے۔

درج ذیل پھانسی پانے والے قیدی

لور قیدی: 43 مقدمات ۔ کرد قیدی: 35 مقدمات ۔ ترک قیدی: 22 مقدمات

عرب قیدی: 13 مقدمات ۔ گیلک قیدی: 12 مقدمات ۔ بلوچ قیدی: 6 مقدمات تات قیدی: 2 مقدمات ترکمان قیدی: 1 مقدمات

افغان شہری قیدی: 5 مقدمات،

فارس قیدی: 76 مقدمات ۔

ہنگاؤ کے لیے نسلی شناخت کی تصدیق نہ ہونے والے: 45 مقدمات زیر تصدیق ہیں ۔

 الزامات کے لحاظ سے اعدام کیے جانے والے قیدیوں کی تقسیم

نومبر میں سب سے زیادہ پھانسی قتل عمد یعنی جان بوجھ کر قتل کے الزام میں ہوئے جو 135 مقدمات یعنی کل مقدما کا 52 فیصد ہیں ۔ اس کے علاوہ 119 افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں پھانسی دیا گیا ۔

پھانسی مختلف الزامات کے تحت

قتل عمد: 135 مقدمات

منشیات: 119 مقدمات

جنسی زیادتی: 6 مقدمات

 صوبوں کے لحاظ سے جیلوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کی تقسیم

ہنگاؤ کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے مہینے کے دوران سب سے زیادہ سزائے موت خراسان رضوی کی جیلوں میں عمل میں لائی گئی جو 23 مقدمات ہیں ۔ کل 29 صوبوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں خراسان رضوی کے بعد لورستان میں 21 پھانسی اور خوزستان میں 19 پھانسی سب سے زیادہ رجسٹرڈ ہوئے ۔

خراسان رضوی: 23 پھانسی

لورستان: 21 پھانسی

خوزستان: 19 پھانسی

فارس: 16 پھانسی

اصفہان: 14 پھانسی

کرمانشاہ (کرماشان)، یزد، البرز اور آذربایجان شرقی: ہر ایک میں 11 پھانسیاں

قم: 10 پھانسی

آذربایجان غربی (ارومیہ): 9 کیسز

سمنان، مرکزی اور خراسان شمالی: ہر ایک میں 8 پھانسی

ہرمزگان، ہمدان، خراسان جنوبی، کرمان، قزوین، زنجان اور کہگیلوئے و بویر احمد: ہر ایک میں 7 پھانسی

ایلام اور گیلان: ہر ایک میں 6 پھانسی

گلستان اور مازندران: ہر ایک میں 5 پھانسی

بوشہر: 4 پھانسی

اردبیل: 3 پھانسی

کردستان اور بلوچستان: ہر ایک میں ایک ایک قیدی کو پھانسی دے دی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز