مجموعی طور پر دھرھندر اچھی فلم ہے، اسکا مزاج ، فلمبندی، ایڈیٹنگ، مکسنگ، ایفیکٹس،رفتار سب بہترین ہیں. تاہم میں کچھ باتوں کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کیونکہ سُننے میں آ رہا ہے کہ اس کا سکوئیل بنایا جائے گا تو جو چھوٹی موٹی غلطیاں اس میں کی گئی ہیں وہ آگے نہ دہرائے جائیں تاکہ اس موضوع پر بننے والی فلمیں بہتر سے بہتر بنیں. اُمید بھی یہی ہے کہ بلوچ و بلوچستان پر بننے والی اس فلم کا شاندار استقبال اور باکس آفس کامیابی کو دیکھ کر اس موضوع پر کئی فلمیں بنیں گے۔

1) حمزہ علی مزاری انڈین ایجنٹ کراچی آتا ہے رحمن بلوچ کے گینگ میں شامل ہوجاتا ہے. رحمن اور اُسکی پوری ٹیم بلوچی میں آپس میں بات کرتے ہیں. فلم بیشک اردو(ہندی) میں ہونا چاہیے تھا مگر حمزہ علی کے اس گینگ میں شامل ہونے سے پہلے یا کسی اور مناسب موقع پر اس بات کو اسٹیبلش کرنا چاہیے تھا کہ اس نے بلوچی کب اور کیسے سیکھی اس کیلئے زیادہ سے زیادہ تیس سیکنڈ یا ایک منٹ کا جملہ کافی ہوتا. ایسا اس لیے ضروری ہے کیونکہ مزاری بلوچ بلوچی کے سلیمانی لہجے میں بات کرتے ہیں جبکہ کراچی کے بلوچ زیادہ تر مکرانی یا رخشانی بلوچی بولتے ہیں وہ بھی اردو الفاظ کی برمار کے ساتھ۔

2) رنویر سنگھ کا کردار جکسرت سنگھ رنگی کے بجائے اگر رشید آحمد یا ظہور آحمد یا کوئی اور مسلمان نام کا ہوتا تو ایک اور ٹیکنیکل مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا. کیونکہ ایسے پیچیدہ، طویل اور سخت آپریشن کے دوران کچھ ہو سکنے کا امکان موجود رہتا ہے بیماری ہو سکتی ہے ، زخمی ہوا جاسکتا ہے، مر بھی سکتا ہے یا شادی یا عشق وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا. ایسے میں یہ بات پتہ چل جاتا ہے کہ وہ مسلم نہیں. اس مسئلے کے دو آسان حل تھے پہلا انڈیا سے جکسرت سنگھ کے بجائے کوئی مسلم آتا. دوسرا اس مسئلے کو حل کرنے تیس سیکنڈ یا ایک منٹ کے کسی گفتگو میں اسکو اسٹیبلش کرتے کہ اچھا ہوا یہ آپریشن (ختنہ) وہاں کیا نہیں تو یہاں شادی کے وقت یہ مسئلہ پورے کھیل کو بگاڑ سکتا تھا۔

3) اتنی بڑی غلطی کہ میڈیکل کے اسٹوڈنٹ سے شادی کر رہا اور وہ یہ تک نہیں جانتی کہ یہ نوجوان مسلم نہیں؟

4) بلوچ قوم میں خواتین کی بڑی عزت ہے یہی وجہ ہے کہ وہ آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ،بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی شکل میں تحریک میں لیڈنگ کردار ادا کر رہے ہیں. اُنھیں مردوں کی مکمل حمایت حاصل ہے مگر انھوں نے یہ آزادی غیرت مندی کا مظاہرہ کر کے اپنے عمل سے اپنے اوپر بھروسہ کرنے کی راہ ہموار کی ہے. حمزہ علی مزاری جاذب نوجوان ہے اُسکی طرف کسی بھی لڑکی کا متوجہ ہونا یا اُسکی محبت میں گرفتار ہونا اچنبھے کی بات نہیں اور اپنے والدین کو اپنی محبت سے مطلع کرنا بھی معیوب نہیں لیکن باپ کا گھر چھوڑ کر رلیشن شپ میں رہنا تاحال بلوچ کے سوچ سے بہت دور ہے اور وہ بھی ایسے باپ کے بیٹی کہ جو بلوچ ہونے کے ساتھ ساتھ پبلک فیگر بھی ہے اور بلوچوں کے درمیان رہتا ہے جو ایسی حرکت کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرتے۔

5) فلم میں شیرانی کا کردار بی یو ایف کا کمانڈر دکھایا گیا ہے جبکہ اس کا گیٹ اَپ ہمارے پشتون بھائیوں جیسا ہے بلکہ وہ بلوچستان کے مشہور پشتون مذہبی راہنما مولانا محمد خان شیرانی جیسا ہے. وسیع سوچ رکھ کر یہ لباس کا فرق کسی نہ کسی طرح قابل برداشت ہے مگر اس سے رحمن کے ملاقات میں اُسے خود سے بڑا سمجھ کر اُس کا ہاتھ چومنا اور اُسے اسلحہ دینا کسی طرح بھی قابل توضیح نہیں کیونکہ جو بلوچ سرمچار ہیں اور بقولِ میجر اقبال کے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ پاکستانی پارلیمانی سیاست کرنے والے اپنے جدی پشتی بلوچ نواب و سرداروں کو نہیں مانتے اُنھیں بلا امتیاز ریاست کا سہولتکار سمجھتے ہیں یہاں پی پی پی کے رحمن بلوچ کو کیسے مانتے ہیں . ایسا کرنے سے بلوچ سرمچاروں اور بلوچ آزادی پسند قوتوں کے بنیادی فلسفے کی نفی ہوتی ہے ایسی منفی تاثر اُبھارنے کی کم از کم ہندوستان کے کسی فلم سے نہیں تھی . فلم میں ایک نہیں کئی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسکرپٹ رائٹر نے یہاں کی سیاسی تضادات اور بلوچ مسلے پر زیادہ ریسرچ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے نہیں تو وہ بلوچ سرمچاروں کو مجاهد نہیں کہتے اور نہ اُنکے کمانڈروں کیلئے خلیفہ جیسا لفظ استعمال کرتے یا حمزہ علی مزاری رحمن بلوچ سے اپنے تعارف میں کہتا ہے میرا بھائی آزاد کے آرمی میں مجاہد تھا وغیرہ. آزاد سب جانتے ہیں کہ یہاں سمبولک لیا گیا ہے مگر وہ حقیقی طور پر بلوچ تحریک آزادی میں ایک کردار ہے جو بلوچ لبریشن آرمی کے بنیادی سپوک پرسنز میں سے ایک ہے جبکہ بلوچ آزادی کیلئے لڑنے والے خود کو مجاہد نہیں کہتے سرمچار کہتے ہیں. مجاهد پاکستان کے مذهبیوں کی پہچان ہے جن کو کبھی افغانستان تو کبھی کشمیر تو کبھی چیچنیا اور مڈل ایسٹ میں پیسے لے کر مذہب کے نام پر لڑاتا ہے. جبکہ سرمچار کے معنی وطن کی خاطر سر کی پرواہ نہ کرنے والا ہے. اور بلوچ اسی نام سے خالص اپنی سرزمین اور قومی شناخت کیلئے لڑ رہے ہیں اُن کا کسی مذہب کی تشہیر یا بالادستی سے سر و کار نہیں. بلوچوں کا تمام مذاہب کے ساتھ تحمل کا اظہار اُنکی بہترین اوصاف میں سے ایک ہے۔

6) یہ دکھانا کہ بلوچوں کے دیئے ہوئے اسلحہ سے پاکستانی دہشتگردوں نے انڈین بیگناہ لوگوں کا قتل کیا ہے مظلوم بلوچوں کیساتھ بدترین ظلم ہے. پاکستانی فورسز بلوچوں کو فتنہ الہند کہکر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر مارتے ہیں اور ہندوستان کا آئی بی چیف کہتا ہے کہ آئی ایس آئی دوسرے دہشتگردوں سے امریکی اور روسی بندوقیں لیتا ہے اور بندوق بلوچ یونائٹڈ فرنٹ سے لیا جانا اسٹیبلش کیا گیا ہے. کیا یہ اسلحہ پاکستان اپنے مجاہدین سے نہیں لے سکتا تھا جو 1979 سے انکی سرپرستی کرتا آ رہا ہے جنکے پاس روسی اور امریکی دونوں کے اسلحہ موجود ہیں. مظلوم بلوچوں کو کیوں ایسے گناہ میں گناہ گار کیا جا رہا جو انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں . بلوچ کیس کو اگر اجاگر کرنا تھا تو یہ طریقہ نہیں کہ اُنھیں بیگناہ انڈین کے قتل میں شریک کیا جائے پاکستان تو پہلے سے نفرت کرتا ہے اب انڈینز کے دل میں بلوچوں کیلئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش سمجھ سے بالاتر ہے. ایک تو بلوچوں کے پاس جنگ کیلئے وسائل کی شدید کمی ہے اور اُن کے لیڈر وقتاً فوقتاً دوست قوموں سے مدد کی اپیل کرتے رہتے ہیں. گذشتہ دنوں بلوچ گوریلہ کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر نے انڈیا سے اپیل کیا تھا کہ وہ انھیں 1971 کو پاکستان کے سرنڈر شدہ سپاہیوں کے رائفلیں دے دیں تاکہ وہ اُن کے کام آئیں. گو کہ یہ مطالبہ سمبولک لگتا ہے کیونکہ آج کے دؤر میں اتنے پرانے رائفل مشکل سے کام آئیں مگر اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ وہ جنگی ساز و سامان کیلئے ضرورت مند ہیں یہاں شیرانی اسلحہ پی پی پی کے آدمی کو بیچ رہا ہے. یہ ایک عام غلطی نہیں بلکہ بلوچ قوم کے ساتھ بدترین دشمنی ہے جو ایک مظلوم کو ظالم کے جرائم میں برابر شریک دکھایا گیا ہے۔

7) چوہدری اسلم موجود کردار ہے جس کو گرجدار بنانے کیلئے ضروری نہیں تھا کہ بلوچ قوم کے ساتھ ذیادتی کر کے اُسے بحیثیت قوم سمگلر، چور، دھوکے باز اور چرسی دکھایا جائے جبکہ چوہدری اسلم خود ان تمام منفی خاصیتوں کا حامل تھا. نوشکی کے نوجوان جنہیں اسلم مارتا ہے جنہوں نے کہانی کے مطابق انھیں غلط مال دیا تھا. غلط مال دینے والوں کو پوری دنیا میں مارا جاتا ہے. انڈین میں درجنوں ایسی فلمیں ہیں جہاں ہیرو ایسے غلط کام کرنے والوں کا ان کاونٹر کرتے ہیں اس میں چوہدری اسلم نے کونسا نیا کام کیا جو واقعی ظلم لگے اگر اُن بلوچ نوجوانوں کو بیگنا مارتا تو اسلم کا کردار بحیثیت ولن اور نکھرتا نہ کہ کسی طرح گناہ گار کو مار کر اُسکے لئے پیدا ہونے والے نفرت کو اٌسے ہیرو بنانے کی کوشش کی جاتی. اُن بلوچ نوجوانوں کو مارتے وقت اس کا یہ ڈائیلاگ پوری بلوچ قوم کے ساتھ نا انصافی ہے کہ “مگرمچھ پر بھروسہ کرو لیکن بلوچ پر بھروسہ مت کرو” یہاں کوئی فکشن نہیں یہ براہ راست ایک ایسے قوم کی توہین ہے جو خود قابل بھروسہ ہے اور دوسروں کو بھی قابل بھروسہ سمجھتا ہے اس کے اسی اچھائی کو پاکستان نے اسکی کمزوری کے طور پر ہمیشہ استعمال کیا ہے پہلے آغا عبدالکریم خان کو قرآن کی قسم کھا کر پہاڑوں سے نیچے اُترنے کا کہا اس نے قرآن پر بھروسہ کیا کہ ریاست واقعی بات کے زریعے معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے جب وہ ساتھیوں سمیت نیچے آیا تو انھیں دس دس سال کی سزائیں دے کر جیل بھیج دیا گیا. دوسری دفعہ نواب نوروز خان کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا اُسے بھی قرآن کے نام پر بندوق رکھنے اور سیاسی معاملات پر گفتگو کا وعدہ کیا گیا مگر جونہی اس نے ہتھیار رکھ دئے اس کو ساتھیوں سمیت جیل بھیج دیا گیا اور اس کے سات قریبی ساتھیوں کو جن میں اُنکا بیٹا بھی شامل تھا پھانسی دی گئی. اس ریاست اور اسکی قوم (پاکستانی پنجابی) بلوچ سے ایسے کہتا ہے کہ قابل اعتبار قوم نہیں جبکہ خود پنجابیوں لاہور کے کورٹ انگریز جج نے ایک کیس کی شنوائی کے دؤران کہا تھا کہ پنجابی دنا کی واحد قوم ہے جو مرتے وقت بھی جھوٹ بولتا جبکہ اُس ہر انسان سچ بولتا ع. دنیا کے کروڑوں سامعین جو اس فلم کو دیکھتے ہیں ان باریکیوں سے واقف نہیں ہیں تو وہ بلوچ کو اُسی نظر سے دیکھتے ہیں جو اس فلم میں دکھائی گئی ہے۔

گو کہ یہ فکشن فلم ہے آٹوبائیوگرافی نہیں مگر اس میں چونکہ بلوچ قوم، اُسکی تحریک آزادی حقیقت ہے جو اس وقت جاری و ساری ہے، رحمن بلوچ، ارشد پپو، عزیر بلوچ، چوہدری اسلم وغیرہ جیسے کردار حقیقی ہیں. اس لئے یہ مکمل فکشن نہیں کہلائی جاسکتی اس لئے مذکورہ فلم میں بلوچ قوم کے کلچر و ثقافت کے دائروں کو سمجھنے کی ضرورت تھی اور موجودہ تحریک آزادی کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا تاکہ یہ فلم اس کے خلاف پاکستانی ریاستی بیانیہ کے تشہیری مہم کا حصہ نہ بنے. وہی تحریک آزادی جس کو دبانے ریاست بلوچستان میں بلوچ نسل کُشی میں مصروف ہے اور کراچی کو جو بلوچ قومی شعوری سیاست کا مکہ رہا ہے کو کیسے بلوچستان میں جاری تحریک سے دور رکھا جائے. یہی وہ بنیادی بات ہے جس کی وجہ سے ریاست نے لیاری کو دوزخ بنانے ڈرگ مافیا کے حوالے کیا تاکہ لیاری کو خاک و خون میں ایسے ایک کیا جائے کہ وہ کسی بھی موڑ پر اپنے بلوچ تحریک آزادی کا حصہ نہ بن سکے. اسی خوف نے ریاست کو بلوچوں کو تنگ و تاریک گلیوں میں دھکیلنے آمادہ کیا کراچی کے بلوچ جو ستر کی دہائی تک شہر کے تمام اہم کاروبار، سیاسی و سماجی شعبوں میں نمایاں تھے آہستہ آہستہ پیچھے دھکیلتے گئے. اس کے باوجود کہ انھیں ہر شعبہ زندگی میں حوصلہ شکنی کا سامنا رہا لیکن انھوں نے اپنی وجود کو برقرار رکھنے کوششیں نہیں چھوڑیں . رحمن بلوچ کا اُبھر کر خود کو سردار کہلانا اور بلوچوں کیلئے دھوپ میں سائبان بننے کی تمنا انہی محرومیوں کا نتیجہ ہے. رحمن بلوچ شاید کچھ اور سال زندہ رہتا اگر دو ہزار پانچ میں پھر بلوچستان میں تحریک آزادی نہیں اُبھرتی اور نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری جیسے راہنماؤں کی شہادت اس تحریک کو مزید گرمائش مہیا نہ کررہی ہوتیں . پہلے اگررحمن بلوچ جیسے لوگ ایک پارٹی سے ناراض ہو کر دوسرے پارلیمانی پارٹی میں جاتے مگر اب بلوچوں کے پاس تیسرا آپشن آ گیا تھا اور لوگوں کا رحجان بھی فطری طور پر اُس طرف تھا ایسے میں اگر رحمن بلوچ نے اپنے لوگوں کیلئے حقیقی طور پر مراعات لینے اسٹینڈ لیا تو حکومت وہ مراعات نہیں دے سکے گی کیونکہ بلوچوں کو منتشر اور دو وقت کے روٹی کے غم میں ایسے الجھانا کہ وہ اس سے آگے کچھ نہ سوچ سکیں ڈیپ سٹیٹ کی پالیسی ہے اُسے کوئی حکومت کوئی جماعت بدل نہیں سکتی. اگر رحمن بلوچ جیسا غیر سیاسی عام آدمی اگر مایوس ہو گیا تو سیدھا اُن لوگوں کے پاس جائے گا جو ابھی تک یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ ریاست بلوچ کو کچھ نہیں دے گی اور وہ سچ کہہ رہے تھے. اگر ایسا ہوگیا تو کراچی کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا. اس بنیادی مسلے کو کہیں بھی ٹھیک طرح سے اُجاگر نہیں کیا گیا ہے جو کراچی میں ریاستی سرپرستی میں گنگز بنانے اور بلوچوں کو پسماندہ رکھنے کی بنیادی وجہ ہے۔

حرف آخر : یہ بات حوصلہ افزائی کا باعث ہے کہ بالی ووڈ نے آخر بلوچ مسلے کی طرف توجہ دیا اور یہ توجہ کامیاب تجربہ ثابت ہوا. اس ضمن میں جو بات بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ اگر ہندوستان اور دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں زیادہ فلمیں اور ٹی وی سیریل سیریز وغیرہ بنتی ہیں وہاں نئے آئیڈیاز کی تلاش بہت مشکل ہے مگر بلوچستان میں درجنوں بلاک باسٹرز کے آئیڈیاز قدم قدم پر ملیں گے. ٹی وی سیریل بنائیں کہ فلمیں حقیقی محبت کی کہانیاں، دوستی و دشننی کہانیاں، تنہائیوں کی کہانیاں، جنگوں کی کہانیاں، بہادروں کی کہانیاں، ڈوب کر اُبھرنے کی کہانیاں، خاموشیوں کی کہانیاں، شور میں ڈوب کر سسکیوں کی کہانیاں وغیرہ وغیرہ لیکن انھیں بہتر طریقے سے سامنے لانے لازم ہے کہ کوئی بھی پروجیکٹ کو ہاتھ میں لیتے وقت بلوچ و بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، تہذیب و تمدن، ادب و سوسائٹی کو سمجھنے والا کوئی دوست ضرور ساتھ ہو نہیں تو اگر دھرھندر میں بلوچ پر بنائی گئی فلم میں پنجابی میں ڈائیلاگ ملتے ہیں مگر بلوچی میں ایک ڈائیلاگ بھی نہیں ملتا اور شادی پر دلہن سمیت کوئی خاتون بلوچی لباس میں کہیں نظر نہ آیا اگلے فلم کوئی لڑکی کا باپ لڑکے والوں سے جہیز نہ مانگے جو کہ بلوچوں میں بالکل بھی نہیں کیونکہ اگر ہندوستان میں لڑکی والے جہیز دیتے ہیں تو ہمارے بلوچ لڑکے والے شادی میں دونوں طرف سے ہونے والے اخراجات کی زمہ لیتے ہیں. گو کہ ایک عام سی بات ہے مگر ایسی بیشمار باریکیوں کو جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی تہذیب و تمدن و اجتماعی اقدار کے باتوں سے لاعلمی کروڑوں کی بجٹ سے بننے والی فلم پر منفی اثر ڈال سکتی ہے.۔