ایک ہی سال 2025 کے چند مہینوں کے دوران نیم درجن سے زائد خواتین کو ماورائے عدالت جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو تاحال لاپتہ ہیں۔

 نہ تو ان پر عائد کسی جرم کی تفصیل سامنے لائی گئی ہے، نہ ہی انہیں کسی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، جو بذاتِ خود ایک سنگین انسانی سانحہ ہے

ماہ جبین ساکن بیسمہ جسمانی طور پر پولیو کے معذور کو کوئٹہ سیول ہاسپٹلرز سے گرفتار کیا گیا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

 نسرینہ بلوچ، جو بنیادی طور پر آواران تیرتیج کی رہائشی ہیں جس کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی دارو ہوٹل سے جبری طور پر گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا گیا۔

اسی طرح فرزانہ کو خضدار سے، رحیمہ کو دالبندین سے بھائی سمیت جبری لاپتہ کیا گیا، اور حالیہ اطلاعات کے مطابق خاجرہ، ثناء اللہ گیشکور کی رہائشی، کو بھی بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی دارو ہوٹل سے گرفتار کرنے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ اب ریاستی مقتدر قوتیں ایک منظم اور منصوبہ بند حکمتِ عملی کے تحت مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔

 اس طرزِ عمل سے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے بجائے اسے مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنایا جا رہا ہے۔ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے اور خواتین کے خلاف اس قسم کا امتیازی اور جابرانہ سلوک ناقابلِ برداشت ہے

2005 میں زرینہ مری، جو ایک اسکول ٹیچر تھیں اس کو کوہلو سے ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا، اور آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں اور کس تحویل میں ہیں۔

اگر ریاست کسی فرد کو حراست میں لیتی ہے تو کم از کم اتنی اخلاقی اور قانونی جرأت تو ہونی چاہیے کہ یہ بتایا جائے کہ اس پر کون سا جرم عائد ہے اور کس قانون کے تحت اسے گرفتار کیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندان کو یہ ادراک ہو سکے کہ ان کے پیارے کسی سرکاری تحویل میں ہے، نہ کہ اندھیری خفیہ عقوبت خانوں ٹارچر سیلوں میں گم کر دیا جائے

ماورائے عدالت اغواء نما گرفتاریاں، خصوصاً خواتین کے خلاف، نہایت افسوس ناک اور باعث تشویش عمل ہیں، جن کے مرتکب ریاستی مقتدر ادارے ہو رہے ہیں۔

اس طرزِ عمل سے نفرت، بیگانگی اور دوریاں مزید بڑھیں گی۔ خواتین کی حرمت پر ہاتھ ڈالنا قومی غیرت پر حملے کے مترادف ہے۔

اس کی واضح مثال سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے، جس پر نواب اکبر خان بگٹی نے آخری دم تک مزاحمت کی اور اپنی جان قربان کر دی۔ اگر بلوچ قوم اپنی خواتین کو اسی طرح جبری گمشدگی کا نشانہ بنتے دیکھے تو اس کی اذیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں

ریاستی ملٹری اس سے قبل بنگال میں بھی جبر و تشدد کی پالیسی آزما چکی ہے، جس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔

آج بلوچستان کی صورتحال اسی سوچ کا تسلسل نظر آتی ہے۔

مقتدر قوتیں ناکہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو تسلیم کرتی ہیں، نہ قومی تشخص، بقا اور حقِ خودارادیت جیسے بنیادی سوالات کو اہمیت دیتی ہیں۔

اقتدار میں بیٹھے چند جنرل اور بیوروکریٹس خود کو سب سے بالا تر سمجھتے ہیں اور دیگر اقوام ،بلوچ، پشتون، سندھی ،کو برابر کا شہری تصور نہیں کرتے

ریاست چند افراد یا اداروں کا نام نہیں بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہوتا ہے۔ آئین اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان، مال، عزت، روزگار، تعلیم اور صحت کا تحفظ کرے۔

 مگر بدقسمتی سے یہاں فیصلے عوامی مفاد کے برعکس بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں، جو ملک کو مزید تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں

قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کے کئی ممالک ترقی کی منازل طے کر چکے ہیں، مگر بلوچستان گزشتہ 78 برسوں سے لوٹ مار، استحصال اور جبر کا شکار ہے۔

کبھی چین اور کبھی امریکہ کو معدنی وسائل کے نمونے دکھا کر سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی ہے، مگر مقامی آبادی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کوئی بھی منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔

آج کے دور میں دنیا ایک گاؤں بن چکی ہے اور بلوچستان میں ہونے والے مظالم سب کی نظروں سے اوجھل نہیں

ماورائے عدالت فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاستی اداروں کے پاس ٹھوس شواہد موجود نہیں، اسی لیے وہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنے سے گریزاں ہیں۔

 کسی فرد کو برسوں تک بغیر کسی جرم کے لاپتہ رکھنا بدترین ریاستی دہشت گردی تصور کی جاتی ہے

ہم ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لیں اور اپنی آواز بلند کریں، ورنہ اس خطے میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، جس کی ذمہ داری عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر عائد ہو گی۔

وہ عالمی طاقتیں اور ریاستی سربراہان جو خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن قرار دے کر دنیا بھر کے تنازعات کی تصیفہ کرنے کی کریڈیٹ لیتے ہیں، بلوچستان کے ان سنگین حالات پر کیوں خاموش ہیں؟

 ان کی یہ خاموشی بذاتِ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے