خاش (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق، مقبوضہ بلوچستان کے شہر خاش کے علاقے ناصرآباد، نجفآباد میں قابض ایرانی فوجی اور سیکیورٹی فورسز نے ایک وسیع آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران کم از کم 15 ایسے بلوچ شہریوں کو حراست کی بعد جبری لاپتہ کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، فورسز صبح کے ابتدائی اوقات میں علاقے میں داخل ہوئیں اور گلیوں میں ناکہ بندی کے ساتھ گھر گھر اور گلی گلی تلاشی کیا۔ اس دوران شناختی دستاویزات نہ رکھنے والے شہریوں کی نشاندہی کر کے انہیں حراست میں لیا گیا۔ آپریشن کے دوران کئی موٹر سائیکلیں بھی ضبط کی گئیں، جس سے علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے باعث متعدد خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
مغربی بلوچستان میں طویل عرصے سے شناختی دستاویزات کا مسئلہ ایک ساختی اور بنیادی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد تعلیم، علاج، روزگار اور سماجی خدمات تک رسائی سے محروم رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا حل سیکیورٹی اقدامات کے بجائے پائیدار قانونی اور انتظامی پالیسیوں میں ہے، بصورت دیگر یہ اقدامات انسانی بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔


