شال (ہمگام نیوز) پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کا کہنا ہے آج فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی میں میرعلی کی سڑکوں اور گلیوں میں بےگناہ پختون زخمی حالت میں پڑے تھے، حتیٰ کہ انہیں ہسپتال تک لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔ زخمیوں میں پی ٹی ایم کارکن مرشد داوڑ بذاتِ خود اور پی ٹی ایم میرعلی عہدیدار مقتدر داوڑ کے والد صاحب بھی شامل ہیں۔
ٹانک میں مدرسے پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں 9 معصوم بچے زخمی ہوئے۔
جنوبی وزیرستان اعظم ورسک میں ڈاکٹر عبدالرحمن کے گھر پر مارٹر برسائے گئے، جس کے نتیجے میں دو عورتیں اور تین بچے شدید زخمی ہوگئے۔
سنٹرل کرم سنگڑوبئی، گلی شنگ، اور میدانی میں جھوٹے فوجی آپریشن کے بہانے فوج نے پختون عوام کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جس کے باعث وہ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
وادی تیراہ میں بھی اسی طرح کے جھوٹے آپریشن کی وجہ سے عام عوام علاقہ چھوڑنے اور نقل مکانی پر مجبور ہے۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت حکومتی سطح پر ان بچوں، عورتوں، خون میں لت پت زخمیوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی محض مذمت تک نہیں کرتی۔ تقریروں میں یہ دعویٰ بڑے جوش وخروش سے کرتے رہتے ہیں کہ کوئی آپریشن نہیں ہوگا، مگر عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف بھی نہیں بلکہ عام بےگناہ پختون کے گھروں پر حملے، بچوں اور عورتوں کو قتل کر کے فوجی آپریشن جاری ہے، اور پورے پختون بیلٹ میں خون اور آنسوؤں کا سماں ہے۔
صوبائی حکومت کے مشیروں کا کہنا ہے کہ انہیں ووٹ یہاں کے امن کے لیے نہیں ملا ہے یہ تو جس نے ووٹ دیے ہیں وہی وضاحت کر سکتے ہیں، مگر کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان واقعات کے خلاف حکومتی سطح پر دو جملوں کی ایک مذمتی بیان تک بھی نہیں دیا جا سکتا؟ یا وہ پشتونوں کو انسانی ہمدردی کے قابل ہی نہیں سمجھتے ہیں؟
پیپلز پارٹی کے گورنر خیبرپختونخوا ہر دوسرے دن بیان دیتے ہیں کہ فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ بہترین کام کر رہی ہے، جبکہ فوج روزانہ عام پختون بچوں اور عورتوں کا قتل عام کر رہی ہے۔
وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہے، جو پشتونوں پر ان فوجی مظالم کی نہ صرف مکمل حمایت کر رہی ہے بلکہ اسکے لئے ہر وقت راستہ بناتی رہتی ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ باقی اکثر سیاسی جماعتوں کو بھی جب جب حکومت کرنے کا موقع ملا، ہر بار انہوں نے ان جھوٹے، ظالم اور جابر فوجی آپریشنوں کا کھل کر ساتھ دیا، جن میں ہزاروں بےگناہ پشتون شہید ہوئے اور لاکھوں پشتونوں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔
پاکستانی فوج، جو کہ پنجاب کی استعماری فوج ہے اور دیگر محکوم قوموں پر ظلم جبر کر کے انکا استحصال کرتی ہے، پشتونوں کے سرزمین پر دھشتگرد اور دھشتگردی بنائی ، پشتونوں پر مسلسل ظلم و جبر کرتی آ رہی ہے، قتل عام کر رہی ہے، بزورِ طاقت پشتونوں کی زمینوں پر قبضہ اور پختونخوا کے معدنی وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے۔
جب پشتون عوام نے اپنے حقوق کے لیے اپنی قومی تحریک پی ٹی ایم بنائی اور فوج نے اس تحریک کی مخالفت شروع کی اس پر ظلم جبر کئے ، میڈیا ، عدالت اور پولیس بھی ان کے ساتھ ہوگئے تاکہ پشتون اپنی آواز بلند نہ کرسکے ، فوج کی حمایت کرنے والے سیاسی پارٹیوں نے بھی وقتاً فوقتاً پی ٹی ایم کے خلاف فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ مگر پھر بھی جب تک پی ٹی ایم گراونڈ پر موجود رہا، تب تک انتہائی تیز عوامی حرکت او عوامی پاسون کے سپیڈی سلسلے کی وجہ سے دہشت گردی اور فوجی آپریشن ممکن نہیں تھے۔
مگر جب پی ٹی ایم پر مکمل پابندی لگائی گئی، گاؤں سے لے کر مرکز تک تمام عہدیداران شیڈول فور میں محاصرہ کر دیے گئے، مرکزی اور صوبائی اکثریت اراکین کو جیل میں ڈال دیا گیا یا لاپتہ کر دیا گیا، پی ٹی ایم پر مکمل پابندی لگا کر اسکے خلاف عسکری کاروائیاں اور سیاسی لوگوں کے ذریعے منفی پروپیگنڈے شروع کر دیے ۔ اس کے بعد دہشت گردی اور آپریشن میں تیزی لانا ممکن ہوگیا۔ ایک طرف پشتون عوام پر ظلم و جبر، خواتین اور بچوں کا قتل عام، اور دوسری طرف ان کی تحریک پی ٹی ایم پر ہر سمت سے گھیرا تنگ کر لیا گیا تاکہ پشتونوں کا کوئی منظم عوامی ردعمل ممکن نہ رہے۔
پشتون قوم آج مشکل میں ہے، درد میں ہے، تکلیف میں ہے۔ ان کی ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کے خون اور آنسوؤں کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہم مشکلات میں ضرور ہیں، مگر ہم نے اپنی ہمت نہیں ہاری اور نہ ایسا کبھی ہوسکتا ہے، ہم نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ اس ظالم اور منظم دشمن کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت سطح کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس دن ہماری تیاری مکمل ہو گئی، اسی دن سے ان تمام مظالم کا ایک ایک کر کے حساب دیکھو گے۔
پشتونوں نوجوانوں سے امید کرتے ہیں کہ ہر قسم کے تفریق و اختلاف کے باوجود بھی ان مظالم کے خلاف مزاحمت کرینگے اور اگر کچھ بھی ممکن نہیں تھا تو کم از کم سوشل میڈیا پر تو اس کے خلاف بھرپور اور مسلسل کمپین شروع کر دے۔


