شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںزاہدان، مسجد مکی کے دو اساتذہ کو کردستان سفر کے بعد قابض...

زاہدان، مسجد مکی کے دو اساتذہ کو کردستان سفر کے بعد قابض ایرانی فورسز نے دفتر میں طلب کر لیا گیا۔

زھدان (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مسجد مکی زاہدان کے دو اساتذہ، جو مولانا عبدالحمید کی نمائندگی میں صوبہ کردستان کے شہر سنندج گئے تھے، کو وہاں کے محکمۂ اطلاعات (انٹیلیجنس) نے طلب کر کے تفتیش کا نشانہ بنایا۔

ان دونوں اہلِ سنت بلوچ علما کی شناخت مفتی عبدالحلیم قاضی (استادِ حدیث، دارالعلوم زاہدان) اور حافظ حسین احمد ریگی (ذمہ دار شعبۂ حفظ، دارالعلوم زاہدان) کے طور پر کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، زاہدان سے سنندج پہنچنے کے فوراً بعد ان دونوں علما کو فون کے ذریعے محکمۂ اطلاعات سنندج نے طلب کیا، جہاں دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس اہلکاروں نے ان سے سنندج آنے کی وجہ پوچھی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد صوبۂ کردستان چھوڑ دیں۔ مزید یہ کہ حکام نے خبردار کیا کہ اگر وہ کردستان میں قیام کرتے ہیں تو ان کی سلامتی کی ذمہ داری نہیں لی جا سکتی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز مسجدِ ارشاد سنندج میں ایک اجلاس ہونا تھا، تاہم محکمۂ اطلاعات کے دباؤ کے باعث ان علما کو منگل ہی کے دن کردستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اس اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔

واضح رہے کہ مفتی عبدالحلیم قاضی اور حافظ حسین احمد ریگی، سنندج کی مسجدِ ارشاد میں ماموستا عبدالجبار لطفی کی امامت میں منعقد ہونے والے وحدت کے اجلاس میں شرکت کے لیے کردستان گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز