ہرنائی (ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے میڈیا میں میں بیان جاری کرتے ہوئے کہنا تھا بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 28 دسمبر، بروز اتوار، شام 3 بجے سے لے کر 6 بجے تک ہرنائی کے علاقے مروا تنک کو اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں چیکنگ کا عمل شروع کیا، اور دونوں جانب سے آنے والی آمد و رفت کو مکمل کنٹرول کرکے مسلسل اسنیپ چیکنگ کی۔
سرمچاروں نے روڈ پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کے دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مشکوک افراد کو متعدد بار رکنے کا اشارہ کیا، مگر وہ نہیں رکے، جس پر حفظِ ماتقدم آخری آپشن کے طور پر ان پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا، اور ان کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں تفتیش سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اشخاص کا تعلق خفیہ اداروں سے تھا جنہیں معلومات اکھٹا کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا، تاکہ سرمچاروں کے پوزیشن اور نقل و حرکت کے متعلق معلومات لے سکیں۔
ترجمان نے مزید کہا سرمچاروں نے اسنیپ چیکنگ کے دوران وہاں قریب موجود ایک موبائل ٹاور کو بھی تباہ کیا گیا جس سے علاقے کی نگرانی و جاسوسی کی جاتی تھی۔
بلوچ لبریشن آرمی ایسے آپریشنز میں ہمیشہ نہتے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کو اولین ترجیحات میں رکھتی ہے، مگر جنگی صورتحال میں جو ہدایات پہلے سے اور بارہا جاری کی جا چکی ہیں، تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان ہدایات کی سختی سے پابندی کریں۔ ناکہ بندی کے دوران چیکنگ و تفتیشی عمل سے گزرنے کے بعد سبھی بے قصور اور عام لوگوں کو عزت و تکریم کے ساتھ جانے دیا جاتا ہے، جبکہ جو لوگ ان بنیادی ہدایات کو خاطر میں نہیں لاتے تو ایسے خطرناک جنگی صورتحال میں مجبوراً آخری آپشن پر عمل کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ جس روڈ پر ناکہ بندی کی گئی تھی، وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر قابض فوج کی ایک چوکی سے متعدد مارٹر گولے بھی فائر کیے گئے، مگر سرمچاروں کے بہتر جنگی و حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا، اور ہمارے سرمچار تین گھنٹے تک مکمل آزادی اور اعتماد کے ساتھ علاقے میں موجود رہے۔ آپریشن کے تمام پہلو مکمل ہونے کے بعد تمام سرمچار ناکہ بندی ختم کرکے وہاں سے بحفاظت واپس ہوگئے۔
ہمارے یہ آپریشنز مقبوضہ بلوچستان کے اندر بڑے پیمانے پر علاقوں کے کنٹرول کے حصول اور وہاں بلوچ قوم کی مدد سے مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی موجودگی کو یقینی بنائے رکھنے کی طویل المدتی مشقوں کا حصہ ہیں، جہاں ہم پاکستانی قابض فوج اور ان کے اداروں کی موجودگی کو غیر مؤثر بنانے کی اپنی پالیسی کو آگے بڑھاتے رہیں گے، اور آخر میں ہم ایک بار پھر تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ناکہ بندی کی صورتحال میں وہاں موقع پر دیے گئے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی شناخت اور تفتیشی عمل میں تعاون کریں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔


