یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کوہلو زون کی جانب سے مہرگڑہ کتاب کاروان کے...

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کوہلو زون کی جانب سے مہرگڑہ کتاب کاروان کے نام سے ایک روزہ کتاب اسٹال کا انعقاد کیا گیا ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کوہلو زون

کوہلو (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کوہلو زون کی جانب سے تنظیم کے تعلیمی و فکری وژن کے تحت “مہرگڑہ کتاب کاروان” کے بینر تلے کوہلو میں ایک روزہ کتاب اسٹال کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و ادبی سرگرمی کا بنیادی مقصد ایک پسماندہ، دور افتادہ اور تعلیمی سہولیات سے محروم خطے میں کتاب دوستی، مطالعۂ عام اور فکری بیداری کے رجحان کو فروغ دینا تھا، تاکہ نوجوان نسل کو جہالت، فکری جمود اور سماجی زوال کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگہی کی روشنی کی جانب گامزن کیا جا سکے۔

کتاب اسٹال میں فلسفہ، نفسیات، تاریخ، ادب، سیاست، سماجیات اور دیگر فکری و تحقیقی موضوعات پر مشتمل معیاری کتب رکھی گئیں،جنہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور عام شہریوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ کوہلو کے نوجوان آج بھی علم کے متلاشی ہیں، کتاب سے وابستگی رکھتے ہیں اور فکری ارتقا کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم حکومتی غفلت، تعلیمی اداروں کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ان کی ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹ بن چکا ہے۔

اس موقع پر بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی رہنماؤں نے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو کی پسماندگی کی بنیادی وجہ تعلیم، تحقیق اور فکری سرگرمیوں سے دوری ہے۔ اس سرزمین مست توکلی، رحم علی مری جیسے عظیم شعرا اور علم و ادب سے وابستہ تاریخی شخصیات کی امین رہی ہے، جو اس خطے کی فکری زرخیزی کا واضح ثبوت ہے۔ آج بھی یہ دھرتی بنجر نہیں، بلکہ حکومتی بے توجہی اور مسلسل نظرانداز نے اسے پسماندگی کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ ابتدا ہی سے اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ کتاب، قلم اور شعور ہی وہ بنیادی ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ایک پسماندہ اور محروم معاشرے کو باوقار، باشعور اور زندہ قوم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بی ایس ایف نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں کتاب کلچر کو فروغ دے کر نوجوانوں میں فکری بالیدگی، تنقیدی شعور اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے۔

کوہلو زون کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انہیں اس بات پر فخر ہے کہ بابا خیر بخش کی دھرتی اور عظیم شاعر رحم علی مری کے دیار میں علم کے چراغ روشن کیے جا رہے ہیں۔ بی ایس ایف کے کارکنان نوجوانوں کو کتاب سے جوڑ کر انہیں منشیات، جرائم اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل میں برداشت، مکالمے، شعوری پختگی اور فکری خود اعتمادی کو فروغ دیا جا سکے جو ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی اساس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ نے ماضی میں آواران، گریشہ نال اور پنجگور جیسے انتہائی پسماندہ علاقوں میں بھی کتاب کلچر کے فروغ کے لیے عملی جدوجہد کی ہے، جہاں ایک وقت میں کتاب رکھنا بھی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر بی ایس ایف کے کارکنان نے تمام تر مشکلات کے باوجود علم و ادب کا پیغام عام کیا۔ تنظیم کی یہ کوشش ہے کہ کوہِ سلیمان کے پسماندہ علاقوں میں بھی علمی و ادبی سرگرمیوں، مباحثوں، مکالموں اور فکری نشستوں کے ذریعے ایک صحت مند فکری ماحول تشکیل دیا جائے۔کتاب اسٹال کے اختتام پر شرکاء نے مہرگڑہ کتاب کاروان جیسے علمی و ادبی اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے اس امر کا مطالبہ کیا کہ ایسے پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھا جائے، تاکہ کوہلو میں کتاب دوست فضا مضبوط ہو، مطالعے کی روایت مستحکم ہو اور ایک باشعور، علم دوست اور فکری طور پر مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز