شال (ہمگام نیوز) جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ 6050ویں روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ بدستور سراپا احتجاج ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کیمپ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے پر زور دیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ ہیں جن پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
لاپتہ افراد کے لواحقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ان کا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں گزرنے کے باوجود ان کے پیاروں کا کوئی پتہ نہیں چل سکا، لیکن وہ امید اور جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔


