بلوچ قوم کی تاریخ قربانیوں اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ ماضی میں جب عرب سرزمین بیرونی حملہ آوروں کے نشانے پر تھی تو بلوچ قبائل نے اپنی دھرتی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عربوں کے دفاع میں بھی کردار ادا کیا۔ صدیوں پہلے بلوچ جنگجوؤں نے اسلامی دنیا کی سرحدوں کو مضبوط بنانے اور عرب معاشروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جسے خود عرب مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔

لیکن آج المیہ یہ ہے کہ وہی عرب ممالک جنہیں بلوچوں نے اپنی سرزمین اور خون کے نذرانے سے بچایا، وہی عرب حکمران آج بلوچ قوم کی نسل کشی پر خاموش ہیں۔ پاکستان اور ایران جیسے قابض ممالک روزانہ بلوچوں کو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے اوپر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، مگر او آئی سی (Organization of Islamic Cooperation) کے ایوانوں میں نہ بلوچوں کا ذکر ہے، نہ کردوں کا، نہ پشتونوں کا۔

او آئی سی کی پالیسیوں کو دیکھیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارہ صرف طاقتور مسلم ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ فلسطینی مسئلہ عالمی سطح پر نمایاں ہے اور اس کی حمایت اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بلوچوں کا خون خون نہیں؟ کیا کردوں اور پشتونوں کا دکھ دکھ نہیں؟ او آئی سی صرف ایرانی گجر اور پاکستانی پنجابی حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے بلوچ، کرد اور پشتون مظلوم اقوام کی نسل کشی پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ بلوچ قوم کی سرزمین پر پاکستان اور ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ معدنی وسائل کے معاہدے کر کے بلوچ عوام کو ان کے آزادی سے محروم کر رہے ہیں۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں بلوچوں پر جبر میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ان ریاستوں کو معلوم ہے کہ جب تک بلوچوں کو کچلا نہ جائے ان کے وسائل پر قبضہ ممکن نہیں۔ عرب ممالک ان معاہدوں کا حصہ بن کر یا ان پر خاموش رہ کر بلوچ نسل کشی میں بالواسطہ شریک ہو رہے ہیں۔

کردوں اور پشتونوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ کرد شام، عراق، ایران اور ترکی میں اپنی شناخت اور آزادی کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، مگر او آئی سی نے کبھی ان کی حمایت نہیں کی۔ اسی طرح پشتون بھی پاکستان اور افغانستان میں دہائیوں سے جنگ و جبر کا شکار ہیں۔ لیکن او آئی سی کے فیصلے صرف طاقتور مسلم ممالک کی ترجیحات کے گرد گھومتے ہیں، کمزور اور مظلوم اقوام ان کے ایجنڈے سے غائب ہیں۔

یہ رویہ نہ صرف او آئی سی کے کردار پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اسلامی اخوت اور انصاف کے دعوے کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اگر او آئی سی واقعی امتِ مسلمہ کی نمائندہ تنظیم ہے تو اسے بلوچ، کرد اور پشتون اقوام کے خلاف ہونے والی نسل کشی کو بھی اسی طرح دنیا کے سامنے اٹھانا چاہیے جیسے وہ فلسطین کا مسئلہ اٹھاتی ہے۔ ورنہ تاریخ اسے ایک ایسی تنظیم کے طور پر یاد رکھے گی جو طاقتور مسلم ریاستوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی تھی۔ بلوچ قوم آج بھی اپنے خون اور قربانیوں سے اپنی شناخت کی حفاظت کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک او آئی سی اور عرب ممالک اس حقیقت کو نظرانداز کرتے رہیں گے کہ بلوچ وہی قوم ہے جس نے کبھی ان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں دی تھیں؟ کیا آج ان کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنا اتنا مشکل بن گیا ہے ؟