شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف مقدمات انسانی حقوق کی وکالت پر...

ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف مقدمات انسانی حقوق کی وکالت پر حملہ۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

اسلام آباد (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے معروف انسانی حقوق کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کمیٹی کے مطابق یہ کارروائی انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کے لیے ریاستی قوانین کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی رہی ہیں، اسلام آباد میں بلوچ طلبہ کو درپیش نسلی امتیاز کے خلاف قانونی معاونت فراہم کرتی رہی ہیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر محروم طبقات کی آواز بنتی رہی ہیں۔ ان کی قانونی جدوجہد آئینی حقوق، شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے دفاع پر مبنی رہی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق کسی وکیل کو اس کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنے پر نشانہ بنانا انسانی حقوق کی وکالت پر براہِ راست حملہ ہے۔ بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) کے تحت مقدمات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کا وقت اور نوعیت اتفاقیہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف ایک منظم کارروائی کا حصہ ہے۔ اگر قومی سطح پر پہچانی جانے والی ایک وکیل کو اظہارِ رائے پر اس طرح کی سزا آمیز کارروائی کا سامنا ہے تو عام بلوچ شہریوں، طلبہ، مزدوروں، خواتین اور جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کو درپیش جبر کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ عمل احتساب نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو جرم بنانے اور سیاسی اظہار کو دبانے کی کوشش ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور منظم امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کرنے والے تمام افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن اور قومی ہم آہنگی صرف انصاف، مکالمے اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام سے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز