دنیا اس وقت ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی توازن تیزی سے بکھر رہا ہے اور ایک نیا عالمی نظام (New World Order) ابھر رہا ہے، جس میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، ریاستیں کمزور اور خطے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کا خطہ اس تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ انہی حالات میں بلوچستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔
بلوچستان محض ایک صوبہ یا خطہ نہیں بلکہ جغرافیائی، اسٹریٹجک اور معاشی اعتبار سے ایک مکمل خطۂ طاقت (Power Region) ہے۔ وسیع رقبہ، معدنی وسائل، توانائی کے ذخائر اور سب سے بڑھ کر بحرِ عرب تک رسائی اسے غیر معمولی حیثیت دیتی ہے۔ گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ اور خطے کے قریب واقع ایران کی بندرگاہ بندر عباس، عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بحری سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو محض ترقیاتی منصوبوں کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی جغرافیائی سیاست کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
نئے عالمی نظام میں ریاستوں کی طاقت اب صرف فوج یا معیشت سے نہیں بلکہ اسٹریٹجک محلِ وقوع، سمندری راستوں اور علاقائی اتحاد سے ماپی جا رہی ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، امریکہ کی انڈو پیسفک حکمتِ عملی، اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی صف بندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ آنے والے وقت میں ساحلی اور سرحدی خطے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ بلوچستان اس پورے منظرنامے میں ایک قدرتی اسٹیج ہولڈر ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کے اصل وارث اس کردار کو سمجھیں اور اپنائیں۔
ایران کی موجودہ صورتحال اس خطے کے لیے ایک اور اہم عنصر ہے۔ معاشی پابندیاں، سیاسی جمود، عوامی بے چینی، نسلی محرومیاں اور اندرونی تقسیم ایران کو ایک خطرناک عدم استحکام کی طرف لے جا رہی ہیں۔ بہت سے مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں ایران کو شدید سیاسی بحران یا حتیٰ کہ خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ 1979 میں شاہِ ایران کا زوال بھی اچانک نہیں آیا تھا بلکہ برسوں کی عوامی ناراضی، عالمی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کا نتیجہ تھا۔ آج کے حالات اس دور سے کئی حوالوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
اگر ایران کمزور ہوتا ہے یا کسی بڑے داخلی تصادم کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست ایرانی بلوچستان اور پورے بلوچ خطے پر پڑیں گے۔ ایسے حالات میں بلوچ قوم کے لیے یہ ایک غیر معمولی موقع بھی ہو سکتا ہے اور ایک بڑا خطرہ بھی۔ موقع اس صورت میں کہ بلوچ اپنی سیاسی، سماجی اور قومی طاقت کو منظم کر کے خود کو ایک سنجیدہ علاقائی قوت کے طور پر پیش کریں، اور خطرہ اس صورت میں کہ اندرونی اختلافات اور انتشار ایک بار پھر انہیں تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچ قوم کو تاریخ نے ایسا موڑ دیا ہو۔ 1970 کی دہائی اس کی واضح مثال ہے۔ 1971 میں جب پاکستان مشرقی پاکستان میں سیاسی اور عسکری طور پر کمزور ہو چکا تھا اور بالآخر بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست کے طور پر سامنے آیا، اس وقت بلوچستان کے پاس بھی ایک تاریخی موقع تھا۔ ریاستی کمزوری، عالمی توجہ اور خطے میں تبدیلی کے باوجود بلوچ قیادت اندرونی اختلافات، قبائلی سیاست اور واضح حکمتِ عملی کی کمی کا شکار رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا موقع، جو شاید دہائیوں میں ایک بار ملتا ہے، ضائع ہو گیا۔
اسی دور میں ایران بھی سیاسی ہلچل کا شکار تھا۔ شاہِ ایران کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی تھی، اور پورا خطہ غیر یقینی صورتحال میں گھرا ہوا تھا۔ اگر اس وقت بلوچ ایک متحد قومی بیانیہ اور منظم سیاسی قوت کے ساتھ سامنے آتے تو شاید آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ مگر تاریخ نے یہ سبق دیا کہ موقع پہچانا نہ جائے تو وہ بعد میں پچھتاوے میں بدل جاتا ہے۔
آج کا لمحہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب دنیا زیادہ جڑی ہوئی ہے، معلومات زیادہ تیز ہیں اور عالمی سیاست زیادہ بے رحم ہو چکی ہے۔ اگر بلوچ قوم نے اس موقع پر بھی اتحاد، شعور اور اجتماعی حکمتِ عملی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ موقع بھی “ایک اور ضائع ہونے والا موقع” بن جائے گا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک دائمی دکھ اور محرومی کی علامت ہوگا۔
بلوچستان کے پاس دولت مند زمین ہے، سمندر ہے، معدنی وسائل ہیں اور ایک ایسا محلِ وقوع ہے جو اسے خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی بنا سکتا ہے۔ مگر دنیا صرف وسائل کو نہیں، منظم قوموں اور واضح قیادت کو تسلیم کرتی ہے۔ بلوچوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض ایک مظلوم قوم نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، باخبر اور منظم سیاسی طاقت ہیں جو اپنے خطے کی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکتی ہے۔
تاریخ بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی۔ اگر آج بھی بلوچ اس موقع کو پہچاننے میں ناکام رہے تو یہ محض ایک سیاسی ناکامی نہیں ہوگی، بلکہ ایک قومی المیہ ہوگا — ایسا المیہ جس کا بوجھ آنے والی نسلیں اٹھائیں گی۔















