کراچی (ہمگام نیوز) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے مصنف اور سماجی کارکن زاہد بلوچ کے 27 جنوری 2026 کی علی الصبح کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ اغوا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اہلِ خانہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے مطابق، نقاب پوش افراد زبردستی زاہد بلوچ کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور ان کی
موجودگی بدستور نامعلوم ہے۔
ایچ آر سی پی کو زاہد بلوچ کی سلامتی کے حوالے سے گہرے خدشات لاحق ہیں۔ کمیشن اس امر پر زور دیتا ہے کہ اگر کسی فرد پر کسی جرم کا الزام ہے تو آئین اور قانون کے مطابق اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ جبری طور پر لاپتہ کیا جائے۔
ایچ آر سی پی سندھ کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر زاہد بلوچ کا سراغ لگائیں، ان کے ٹھکانے سے متعلق معلومات منظرِ عام پر لائیں اور اس معاملے میں مکمل طور پر قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنائیں۔


