ڈاکٹر سہراب مری بلوچستان کی اُس مزاحمتی اور فکری روایت کے امین تھے جس کی بنیاد قربانی، جفا کشی اور بے لوث خدمت پر ہے۔ انہوں نے بلوچ گوریلا کمانڈر شیر مری کے گھر آنکھ کھولی۔ بچپن ہی سے ذہانت، محنت اور حبِ بلوچستان ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ حالاتِ جلاوطنی کے باعث انہوں نے اپنے بچپن کا بڑا حصہ افغانستان میں گزارا، جہاں والد کی جدوجہد اور وطن سے غیر متزلزل وابستگی نے ان کی فکر و شعور کو جلا بخشی۔ اگرچہ والد کی شفقت انہیں کم نصیب ہوئی، مگر شیر خان مری کی حب الوطنی اور قربانیوں نے ڈاکٹر سہراب مری کے اندر ایک مضبوط نظریاتی بنیاد رکھ دی۔
سخت ترین حالات کے باوجود ڈاکٹر سہراب مری نے تعلیم کا دامن نہ چھوڑا۔ انہوں نے اپنی محنت اور استقامت کے بل پر طب کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹر بن گئے۔ مگر ان کے نزدیک کامیابی کا مفہوم ذاتی آسائش یا نمود و نمائش نہ تھا۔ ڈاکٹر بننے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی بلوچستان کے دور دراز اور محروم علاقوں کے لیے وقف کر دی۔ بلوچ سرمچاروں کے لیے ادویات کی فراہمی ہو یا کوئٹہ کے مغربی بائی پاس میں مقیم مری بلوچ خاندانوں کی خدمت—وہ چوبیس گھنٹے دستیاب رہتے تھے۔ ان کی شخصیت میں خدمتِ خلق اور قومی درد ایک دوسرے میں گھلے ہوئے تھے۔
سن 2001ء میں جسٹس نواز مری کے قتل کیس کے سلسلے میں، سینکڑوں مری بلوچوں کے ہمراہ ڈاکٹر سہراب مری کو حراست میں لے کر کوئٹہ کے مختلف قلی کیمپوں میں شدید اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر قید و تشدد بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکے۔ بلوچستان سے ان کی محبت اور اپنے نظریے پر یقین پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔
بعد ازاں جب ڈاکٹر اللہ نذر کو ان کے ساتھیوں سمیت خفیہ اداروں نے اغوا کیا تو ڈاکٹر سہراب مری نے ایک نظریاتی ساتھی کے ہمراہ بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال نے ان کی صحت کو انتہائی نازک حالت میں پہنچا دیا۔ اسی دوران انہوں نے اپنی وصیت تحریر کر کے موجود لوگوں اور میڈیا میں تقسیم کی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ شہادت قریب ہے۔
ان کی ثابت قدمی اور آخری سانس تک اپنے فیصلے پر قائم رہنے کی قوت نے بالآخر دباؤ پیدا کیا اور ڈاکٹر اللہ نذر سمیت دیگر لاپتہ ساتھی منظرِ عام پر آ گئے۔ دوستوں کی بازیابی کی تصدیق کے بعد ڈاکٹر سہراب مری نے بھوک ہڑتال ختم کی، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اگر چند دن اور یہ سلسلہ جاری رہتا تو ان کی جان بچانا مشکل ہو جاتا۔
ڈاکٹر سہراب مری سادگی اور بے نیازی کے قائل تھے۔ بلوچستان میں ہونے والے مظالم انہیں بے چین رکھتے اور راتوں کی نیند چھین لیتے۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح انہوں نے طب کے میدان میں خدمت کی، اسی طرح مزاحمتی جدوجہد میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ وہ دو ہزار آٹھ کی رات پانچ اور چھ فروری کے درمیان ایک اہم تنظیمی مشن کے دوران کوئٹہ میں وطن پر قربان ہوگئے ، اور یوں بلوچستان ایک دلیر، مخلص اور جفا کش سپوت سے محروم ہو گیا۔
اگرچہ ڈاکٹر سہراب مری آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تعلیمات، نظریہ اور وطنِ بلوچستان سے سچی وابستگی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی زندگی بلوچ نوجوانوں کے لیے عزم، استقامت اور قربانی کی روشن مثال ہے—ایک ایسی مشعلِ راہ جو آنے والی نسلوں کو حوصلہ اور سمت دیتی رہے گی۔















