شال (ہمگام نیوز) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز اتوار کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6080ویں روز جاری رہا۔
اس دوران پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ طالب علم ذاکر نور کے بھائی نے چیرمین نصراللہ بلوچ سے رابطہ کرکے شکایت کی، اس کے بھائی ذاکر نور کو 29 اور 30 دسمبر 2025 کی درمیانی رات کو کراچی میں ریاستی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کراچی انتظامیہ سے کئی بار رابطہ کیا، لیکن ابھی تک انہیں ان کے بھائی کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جارہی ہے اور نہ ہی ان کے خیریت بارے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے ان کے خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہوا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے ذاکر نور کے بھائی کو یقین دھانی کرائی، کہ ان کے بھائی کے کیس کو تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن اور حکومت کے سامنے ملکی آئین کے تحت پیش کیا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ذاکر نور پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے، بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو فوری طور پر یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرکے ان کے خاندان کو کرب و اذیت سے نجات دلائی جائے۔


