شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںاوسلو میں سابق کٹ پتلی وزیرِ اعظم انور الحق کاکڑ کی آمد...

اوسلو میں سابق کٹ پتلی وزیرِ اعظم انور الحق کاکڑ کی آمد کے خلاف بلوچ کمیونٹی ناروے کا احتجاج

اوسلو (ہمگام نیوز) ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بلوچ کمیونٹی نے سابق کٹ پتلی نگران وزیرِ اعظم انور الحق کاکڑ کی آمد کے موقع پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں جبری لاپتہ بلوچ افراد کی تصاویر، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر آزاد بلوچستان کے جھنڈے بھی لہرائے گئے اور مختلف نعروں کے ذریعے بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز بلند کی گئی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انور الحق کاکڑ کے دورِ حکومت میں بلوچستان میں فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس پر عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یاد رہے کٹ پتلی سابق نگران وزیراعظم کاکڑ کے دور میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ریلی، جو تربت سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئی تھی، کو مختلف شہروں میں رکاوٹوں، گرفتاریوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین کا کہنا ہے اسلام آباد پہنچنے پر ریلی کے شرکا کے خلاف لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ انور الحق کاکڑ کی ناروے آمد کا مقصد بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر کمزور کرنا اور ناروے کی حکومت کے ساتھ سفارتی ملاقاتوں کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرونِ ملک مقیم بلوچ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی نگرانی یا پروفائلنگ کی کوشش کی جا سکتی ہے، جس پر ناروے کی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے ناروے کی حکومت، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز