شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںبلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں تیزی ایک سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔...

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں تیزی ایک سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ طلبہ کو درپیش عدم تحفظ کی یہ فضا حد درجہ لمحہ فکریہ ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

شال (ہمگام نیوز) بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھمنے کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کے نزدیک جبری گمشدگیاں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر اسکالرشپس اور تعلیم کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری جانب بلوچ طلبہ کو اس سنگین صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ آئے روز جبری گمشدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

بلوچستان کے طلبہ کثیر الطبقی چیلنجز اور مسائل کی زد میں ہیں۔ جہاں انہیں جامعات میں اکیڈمک کریک ڈاؤن، ہراساں کیے جانے اور تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہیں ہاسٹلز اور نجی رہائش گاہوں پر بلاجواز چھاپے مار کر انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلوچستان میں غیر یقینی اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان واقعات میں تشویشناک حد تک تیزی آئی ہے، جو تاحال کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بلوچ طلبہ کو ان کے سیاسی و سماجی شعور اور علم دوستی کی پاداش میں جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی پروفائلنگ میں مزید تیزی آئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مارے جانے والے چھاپے طلبہ میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار پانچ دنوں میں درجنوں افراد جبری طور پر لاپتہ کر دیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد ان طلبہ کی ہے جو پنجاب اور اسلام آباد سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا اب بھی زیرِ تعلیم ہیں۔

اسی طرح لسبیلہ یونیورسٹی (لوامز)، اوتھل میں بھی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو ہراسانی اور پروفائلنگ کا سامنا ہے۔ یہاں طلبہ کو آئے روز نت نئے بہانوں سے نام نہاد ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہی انتظامیہ یونیورسٹی میں ہر دوسرے روز کلاسز معطل کر کے اپنے سیشنز اور پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے، لیکن جب طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت کوئی علمی یا ثقافتی سرگرمی کرنا چاہیں، تو وہ انتظامیہ کو ناگوار گزرتی ہے۔

بحیثیت ایک طلبہ تنظیم، ہم جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے کیسز، تعلمی اداروں میں تعصب اور ہراسانی کے نہ رکنے والے اعمال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مقتدر حلقے بلوچ شعور سے خوفزدہ ہیں۔ ہم ان تعلیمی دشمن پالیسیوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتے ہیں بلکہ میڈیا کے توسط سے حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روک کر ایک پُرامن تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جائے، تاکہ بلوچ طلبہ بلا خوف و خطر اپنا تعلیمی اور شعوری سفر جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز