تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ محکوم اقوام کی مزاحمت کو “بغاوت” یا “دہشت گردی” قرار دینا کوئی جدید رجحان نہیں بلکہ صدیوں پرانا سیاسی ہتھکنڈا ہے۔

بیسویں صدی سے پہلے بھی جب کوئی قوم اپنی سرزمین، شناخت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے اٹھی، تو غالب طاقت نے اسے غیرقانونی بغاوت کے طور پر پیش کیا، جبکہ اپنے عسکری اقدامات کو “امن کی بحالی” کا نام دیا۔

سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں میں برطانوی تسلط کے خلاف مزاحمت کو بغاوت اور غداری کہا گیا، حالانکہ آئرش بیانیہ اسے قومی آزادی کی جدوجہد سمجھتا تھا۔ اسی طرح شمالی امریکہ میں کی آزادی کی جنگ کے دوران برطانوی سلطنت نے نوآبادیاتی مزاحمت کاروں کو باغی قرار دیا، مگر بعد میں وہی تحریک ایک آزاد ریاست کے قیام کا سبب بنی۔ لاطینی امریکہ میں اور دیگر علاقوں میں ہسپانوی راج کے خلاف تحریکوں کو ابتدا میں مجرمانہ بغاوت کہا گیا، مگر تاریخ نے انہیں نوآبادیاتی جبر کے خلاف جدوجہد کے طور پر تسلیم کیا۔

انیسویں صدی میں پر فرانسیسی قبضے کے خلاف مزاحمت کو وحشیانہ بغاوت قرار دیا گیا۔ اسی دور میں روسی سلطنت کے زیر نگیں قفقاز کے مسلمانوں کی مزاحمت کو بھی دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا۔ سلطنتوں کا عمومی طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ سیاسی مزاحمت کو مجرمانہ رنگ دے کر اپنی عسکری کارروائیوں کو قانونی جواز فراہم کریں۔

برصغیر میں برطانوی سامراج کے خلاف 1857ء کی جنگ کو انگریزوں نے “غدر” کہا، جب کہ مقامی بیانیہ اسے آزادی کی پہلی جنگ سمجھتا تھا ۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے مراکز تاریخ کی زبان اور اصطلاحات کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی تاریخی تسلسل میں بلوچستان کا مسئلہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انیسویں صدی میں اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے بلوچ قوم کے ساتھ مختلف معاہدات کیے، جن کے ذریعے بلوچستان کے کچھ حصوں پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول قائم ہوا۔

برطانوی دور میں بھی مقامی مزاحمت کو بغاوت کے طور پر پیش کیا گیا اور فوجی کارروائیاں کی گئیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء کو ریاستِ قلات کے جبری الحاق کا معاملہ ایک متنازع تاریخی باب ہے۔ بلوچ قوم اسے جبری الحاق قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستانی ریاست اسے قانونی انضمام کہتی ہے۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں بلوچستان میں مسلح بغاوتیں اور فوجی آپریشنز ہوئے، جن میں 1948 ، 1950ء کی دہائی،1973ء کی دہائی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال نمایاں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اجتماعی سزاؤں کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، جبکہ ریاستی مؤقف یہ رہا ہے کہ یہ اقدامات دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف ضروری ہیں۔

اسی طرح مقبوضہ سیستان و بلوچستان میں بلوچ آبادی طویل عرصے سے سیاسی، معاشی اور مذہبی محرومیوں کا شکار رہی ہے۔ ایرانی حکام بلوچ مسلح گروہوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتے ہیں اور سرحدی سلامتی کے نام پر سخت کارروائیاں کرتے ہیں۔ دوسری طرف بلوچ کارکنان ریاستی جبر، سزائے موت، اور سیکورٹی آپریشنز کو اجتماعی سزا اور نسلی امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں جھڑپیں اور سکیورٹی کریک ڈاؤن عالمی انسانی حقوق کی رپورٹس کا حصہ بنتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تعریف واضح ہے، مگر ان اصطلاحات کا اطلاق ہمیشہ سیاسی مباحث کا موضوع رہتا ہے۔

اقوام،متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ کنونشنز ریاستوں کو انسانی حقوق کے احترام کا پابند بناتے ہیں، لیکن عملدرآمد اکثر عالمی طاقت کے توازن سے متاثر ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جہاں سیاسی مسائل کو صرف عسکری نقطۂ نظر سے حل کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں تنازع مزید گہرا ہوا۔

یوں بیسویں صدی سے پہلے کی نوآبادیاتی تاریخ ہو یا موجودہ دور کے قومی تنازعات، ایک مشترک پہلو نمایاں ہے: مزاحمت اور دہشت گردی کی تعریف اکثر طاقت کے زاویے سے متعین ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب دستاویزی شواہد، تحقیق اور عالمی رائے عامہ سامنے آتی ہے تو تاریخ کا فیصلہ عموماً زیادہ پیچیدہ اور کثیر جہتی ہوتا ہے۔ مقبوضہ بلوچستان کا تنازع بھی اسی وسیع تاریخی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے، جہاں بیانیہ، طاقت اور بلوچ قوم کی آزادی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسی تاریخی تناظر میں بلوچ قوم کی سرزمین متحدہ بلوچستان ہے اور متحدہ بلوچستان کی ازادی اس کا تاریخی حق ہے۔