تاریخ بعض اوقات اقوام کے سامنے ایسے نادر مواقع پیش کرتی ہے جو ان کی بصیرت اور عزم کا امتحان لیتے ہیں۔ بلوچ قوم کے لیے بھی ایسے مواقع ماضی میں کئی بار آئے ہیں. ایسے مواقع جن پر تاریخ کا رخ بدلا جا سکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے بارہا یہ مواقع داخلی انتشار، تنظیمی کمزوری اور بین الاقوامی حمایت کے فقدان کے باعث ضائع ہو گئے۔ آج جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر گہری تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، ایک اہم سوال دوبارہ سامنے کھڑا ہے: کیا بلوچ قوم اس لمحے کو پہچان کر آذادی کی جد و جھد کو سپورٹ کرے گی اور دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھے گی؟

بلوچ مسئلے کی تاریخی جڑیں انیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جب 1839 میں برطانوی سلطنت نے بلوچستان پر حملہ کیا تو اس وقت بلوچستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر موجود تھا۔ یہ حملہ برطانیہ کی جنوبی اور وسطی ایشیا میں وسیع تر سامراجی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ تاہم بلوچ قیادت اور عوام کی شدید مزاحمت نے برطانیہ کے لیے مکمل تسلط قائم کرنا مشکل بنا دیا۔

اسی مزاحمت کے نتیجے میں 1876 میں برطانوی سلطنت اور بلوچستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے بلوچستان کی آذاد و خودمختار حیثیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور دونوں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کا ایک نظام قائم ہوا۔ دونوں فریق اس بات کے پابند تھے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کریں۔ بلوچستان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایسی کسی ریاست کے ساتھ خارجہ تعلقات قائم نہیں کرے گا جو برطانوی سلطنت کے خلاف ہو، جبکہ برطانیہ کو اجازت دی گئی کہ وہ محدود فوجی دستے بلوچستان میں تعینات کرے تاکہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کی سیاست اکثر معاہدوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ برطانیہ نے سیاسی مداخلت اور مختلف حکمتِ عملیوں کے ذریعے بلوچستان کی حکومتی ساخت کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ نتیجتاً ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال پیدا ہوئی: اصولی طور پر بلوچستان ایک خودمختار ریاست (de jure) رہا، لیکن عملی طور پر اس کی داخلی حکمرانی اور خارجہ پالیسی پر سامراجی اثر و رسوخ بڑھتا گیا (de facto)۔

اس سامراجی حکمت عملی کا ایک سنگین نتیجہ بلوچستان کی سرزمین کی تقسیم کی صورت میں سامنے آیا۔ انیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں تہران کی درخواست پر برطانیہ نے گولڈسمڈ لائن کے نام سے ایک سرحدی لکیر قائم کی جس نے مغربی بلوچستان کو باقی بلوچ سرزمین سے جدا کر دیا۔ یہ سرحد بلوچ عوام یا ان کی سیاسی قیادت کی رضامندی کے بغیر قائم کی گئی اور اس طرح ایک تاریخی طور پر متحد قوم و خطے کو تقسیم کر دیا گیا۔

اس تقسیم کے باوجود مغربی بلوچستان کے بلوچ عوام نے بیرونی حکمرانی کو آسانی سے قبول نہیں کیا۔ کئی دہائیوں تک فارسی ریاست کو اس خطے پر کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہی. تاہم 1928 میں صورتحال یکسر بدل گئی جب تہران نے، فضائی برتری کے ساتھ، ایک فوجی کارروائی کے ذریعے مغربی بلوچستان پر قبضہ کیا۔

اس کے بعد سے بلوچ عوام مختلف شکلوں میں اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔چاہے وہ مسلح مزاحمت کی صورت میں ہو یا پرامن سیاسی تحریکوں کی شکل میں۔ ایران اور پاکستان کے زیرِ قبضہ بلوچستان میں بلوچ تحریکیں اپنے خودمختاری و آزادی کے مطالبات کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم طاقت کے عدم توازن اور عالمی سطح پر محدود توجہ کے باعث بلوچ مسئلہ اکثر بین الاقوامی سیاسی مباحث میں وہ جگہ حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ مستحق سمجھا جاتا ہے۔

تاریخ یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ مواقع ماضی میں بھی سامنے آئے تھے۔ پہلا اہم موقع اس وقت پیدا ہوا جب آغا عبدالکریم خان نے بلوچستان پر پاکستانی قبضہ کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ مگر تنظیمی کمزوری اور بیرونی حمایت کی کمی کے باعث یہ تحریک زیادہ دیر تک مؤثر نہ رہ سکی۔

دوسرا موقع 1971 میں سامنے آیا جب بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہوا اور جنوبی ایشیا کا سیاسی نقشہ بدل گیا۔ بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ یہ تبدیلی بلوچستان کی آذادی کے لیے قانونی اور سیاسی دلائل کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ مگر اس وقت بلوچ تحریک محدود جغرافیائی علاقوں تک محدود رہی اور اسے وسیع عوامی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

تیسرا موقع 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران پیدا ہوا جب تہران میں سیاسی نظام مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔ اس دور کی بے یقینی اور افراتفری خطے کی سیاست کو نئی شکل دے سکتی تھی۔ لیکن بلوچ سیاسی قوت کی د کمی کے باعث اس موقع کو بھی مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا جا سکا۔

موجودہ وقت شاہد وہ سب سے موزوں، بروقت اور سنہری موقع ہے جب اسراہیل، امریکہ یورپی یونین اور عرب دنیا ایک مشترکہ موقف کے ساتھ ایرانی قیادت کے خلاف کھڑے ہیں. ایسے حالات میں یہ موقع گویا بلوچ قوم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ وہ اس سے فاہدہ اٹھاے. بلوچ قوم اگر فرضی و غیر فطری لکیر گولڈ سمڈ لاہن کے دونوں اطرف آذادی کی جھنڈے تلے جمع ہوجاے تو وہ اس موقع کو اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہے.

مگر تاریخ ایک بنیادی سبق بھی دیتی ہے: صرف مواقع کسی قوم کی تقدیر نہیں بدلتے۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب قومیں اتحاد، سیاسی بصیرت اور واضح جمہوری وژن کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔

اگر بلوچ مسئلہ عالمی سطح پر سنجیدگی سے سنا جانا ہے تو بلوچ قوم کو یکجاہ ہو کر، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے واضح عزم کے ساتھ پیش ہونا ہوگا۔ دنیا اُن تحریکوں کو زیادہ توجہ دیتی ہے جو نہ صرف تاریخی شکایات پیش کرتی ہیں بلکہ ایک مستحکم، جمہوری اور پرامن مستقبل کا قابلِ اعتماد خاکہ بھی پیش کرتی ہیں۔

آج بلوچ قوم کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے: کیا وہ ایران کے خلاف اپنی آذادی کے لیے یک زبان ہو سکتی ہے، یا ایک اور تاریخی موقع ضائع ہو جائے گا جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے؟

تاریخ کے دروازے زیادہ دیر تک کھلے نہیں رہتے۔ اگر یہ لمحہ واقعی ایک فیصلہ کن موڑ ہے تو بلوچ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ، حکمت اور جمہوریت و انصاف کے عزم کے ساتھ آذادی کے لیے یک زبان ہو کر اپنے مستقبل کی سمت کا تعین کرے۔