کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے حکومت بلوچستان کے ترجمان کی مسنگ پرسنز کے بارے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کے ترجمان کی جانب سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ بلوچ مسنگ پرسنز کی تعداد کو تیس بیان کر نا سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ وہ خود بھول گئے ہیں کہ فورسزکی جانب سے21 دسمبر 2015 کوایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت 1929 آپریشن اور 9074 افراد گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دئیے گئے۔جبکہ موجودہ ترجمان کے مطابق لاپتہ افراد کی تعدادتیس سے پینتیس ہے ،حالانکہ سیکرٹری داخلہ نے جب نو مہینے کی ریکارڈ سامنے لائی تو وہ ساڑھے آٹھ ہزار تھی۔ان میں ابھی تک کسی کی جاہ و مقام کا کسی کو خبر نہیں۔سرکاری ادارے و ترجمان متضاد بیانات جاری کرکے لاپتہ بلوچوں کو ماضی کی ’’مارو اور پھینکو‘‘ پالیسی یا اجتماعی قبروں کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ دسمبر 2015 میں فورسزکے مطابق گرفتار کرکے لاپتہ کیے جانے والے افراد کی تعداد 9074 ہے، مگر میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی طاقتیں بلوچوں پر ہونی والی مظالم پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو ریاستی نمائندے اپنے دوغلے بیانات سے نہیں چھپا سکتے۔یہ نو ہزار لاپتہ سابقہ فہرست کے علاوہ ہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ جنوری2016 میں فورسز نے29 بلوچ فرزندوں کو شہید کیا جس میں بی این ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ اور دیگر چار ساتھی بھی شامل ہیں،جبکہ 334 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا،یہ تعداد صرف اخبارات اور فورسز کے ترجمان کے اعترافی بیان میں ہیں۔اصل تعداد اس سے زیادہ ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ ہم ہر اغوا ہونے والی بلوچ فرزند کی تفصیلات میڈیا میں شائع کرتے ہیں مگر جب کچھ دنوں بعد ان کی مسخ شدہ لاش بھی مل جاتی ہے تب بھی میڈیا اور صحافی اسٹابلشمنٹ کی زبان میں انہیں انکاؤنٹر میں مارے جانے کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، یا اسٹابلشمنٹ کی خاموشی پر صحافی بھی خاموش رہتے ہیں اور بلوچ قوم ہر دن لاشوں کے تحفے وصول کرتا رہتا ہے۔


