انقلاب ایک سیاسی او ر غیرسیاسی جیسے کہ صنعتی و ذرعی اور سماجی و ثقافتی تبدیلی ہے۔ بعض ماہرین کسی ملک کی آئیں میں ترامیم یا کسی ادارے کی ساخت و ہیت میں تبدیلی لانے کو بھی انقلاب کہتے ہیں جو کہ محدود قسم کے ہوتے ہیں۔ انقلاب تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف اقوام ریاست اور سماجوں میں آتے رہے ہیں۔ جن سے ان اقوام اور اُنکی ریاست اور سماج میں نہ صرف سیاسی بلکہ ثقافتی ، زرعی اور صنعتی تبدیلیاں لاتے رہے ہیں۔ بعض اوقات سیاسی انقلابات وہ مثبت تبدیلیاں نہ لا سکتے ہیں جنکے لیے انقلاب کا مقصد ہوا کرتا ہے بعض لوگ انقلاب کو نیشنلزم کے جہد کے ساتھ گڈجوڈ کرتے ہیں جو صیع نتائج نہیں دے سکتا ہے کیونکہ نشنلزم کی جہد الگ ریاست کے لئے ہوتا ہے اور وہ ریاستی باڑدر اور ریاست کے حدود میں جہد کا نہیں ہوتا ہے نشنلزم کی مختلف تعریفیں بیان کی جا چکی ہیں ( ایک قومی تحریک جو کہ قومی تشخص کی بحالی کے لیے ہو جسکی وجود غضب کی گی ہو ایسی قومی تحریک کی حمایت کرنا یا اس میں اپنا کردار ادا کرنا یا قومی تشخص اور اسکی بحالی کے لیے جذبات اور احساسات کی موجودگی نشنلزم ہے۔ بلوچ اور کرد نشنلزم یا مومنٹ فور نشنل لیبیرشن اسی زمرے میں آتے ہیں۔ حب الوطنی Patriotism: بعض ماہرین اسکو بھی نشنلزم یا نشنلزم کے قریب گردانتے ہیں اپنے ملک سماج ثقافت اور کارنامہ پر فحر کرنا اور اسی کی extrime شکل کو jingoism کہتے ہیں یعنی اپنے قوم کو دوسروں کے مقابلے میں superior سمجھنا اپنے قومی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جانا۔ جرمن نازی ازم کو اسکی ایک مثال قرار دے سکتے ہیں ۔ بعض ماہرین نے نشنلزم کی نوعیت اور نیچر اور اسکی تعریف کو ایک خاص وقت میں ایک قوم کی کسی خاص حالت میں ہونے پہ انحصار کیا ہے۔ اگر دیکھا جاے تو جو قومیں اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ان پہ نشنلزم کی وہی تعریف پوری اترتی ہے جو کہ سب سے پہلے بیان کی جا چکی ہے۔ قومیں اپنی آزادی حاصل کرنے کے بعد اپنی قوم پرستانہ جزبات نہیں کھوتے ہیں بلکہ آزادی کے بعد بھی قوموں میں نشنلزم ہوتا ہے۔ اب یہ لازم نہیں کہ آزاد سماجوں اور اقوام میں نشنلزم نا ہو۔ لیکن البتہ دونوں صورتوں میں انکی نوعیت اور ہیت میں فرق ضرور ہوگا۔ بلوچ قومی تحریک جو کہ قبضہ کے خلاف اور قومی تشخص کی بلوچ ریاست کی بحالی و آزادی کی ایک تحریک ہے۔ اکثر و بیشتر بلوچ نوجوان طلبہ و بعض دنشور قومی مسلہ اور تحریک کو کیوبا میں فیڈل کاسٹرو اور روس کے کمیونسٹ انقلاب یا بہت دوسرے پہلے سے ہی آزاد اقوام یا ملکوں میں internal regime change کی تحاریک سے مشابہ کرتے ہیں یا ان تحاریک سے راہ نمای حاصل کرنے کی کوشش کرنا یا انکو ideal یا رول ماڈل سمجھنا خاص طور پر روس کی انقلاب اور کیوبا میں بٹیسٹا کی رجیم کے خلا ف کاسترو اور ڈاکٹر چے کی کمیونسٹ مومنٹ قابل ذکر ہیں اور اکثر بلوچ نوجوانوں اور طلبہ کو روسی کمیونسٹ لیٹراچر کی کتابیں پر اپنی پوری توجہ مرکوز کی ہوی ہے ۔ تو اس لیے کمیونسٹ انقلاب اور نشنلزم یا لبریشن نشنالزم میں کیا فرق ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ بلوچ نوجوانوں زیادہ اثرات روسی کمیونسٹ اور کیوبا کی سوشالسٹ انقلاب کا ہے تو اس مضمون میں نشنلزم یا نشنل لیبریشن مو منٹ اور کمیونسٹ انقلاب یا ایک آزاد قوم یا ملک میں رجیم کی تبدیلی کی مومنٹ میں کیا فرق ہے واضح کرنے کی ایک کوشش کی گٰی ہے۔ سوشلزم اور نشنلزم دو الگ نظریہ ہیں ۔ سوشلزم سماج میں معاشی طبقات میں کچلے ہوے طبقات کی بات کرتا ہے جبکہ نشنلزم قومی تشکیل جسمیں سارے سماجی اور معاشی طبقات آتے ہیں کی ایک مراحلہ ہے سوشلزم کی مومنٹ کسی خاص طبقے کی جدوجہد کرتی ہے اور اسکو کسی خاص طبقہ فکر کی اور سماج کی اسی خاص طبقے کی حمایت حاصل ہوتی ہے جبکہ نشنلزم قومی تشکیل یا قوم کو غلامی قبضہ سے نکالنے کی ریاست کی آزادی کی ایک مومنٹ ہے ۔ جو قوم مقبوضہ ہے تو اس قوم کے سارے سماج میں سارے طبقات اور طبقہ فکر کے لوگ غلام ہوتے ہیں تو غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلے سماج میں سارے کلاسز upper middle and lower class اور سارے طبقہ فکر چاہے مذہبی سوشلسٹ یا لبرل ہو وہ ان سب کی قومی تشخص و وجود خطرے میں ہوتا ہے اور سارے سماجی اور معاشی سارے طبقہ فکر کے لوگ غلامی اور قبضہ کے خلاف جدوجہد میں متحد ہوجاتے ہیں ۔ روسی سوشلسٹ یا ایرانی مذہبی انقلاب کے ذریعے زار اور شاہ ایران کی رجیم کی تبدیلی سے نہ روس اور نہ ہی ایران میں جغرافیای حدودوں میں تبدیلی آئی جبکہ نشنلزم لیبریشن مومنٹ کی کامیابی کی صورت جغرافیای وحدتیں ٹوٹ جاتی ہیں جیسا کہ مشرقی پاکستان کی آزادی سے پاکستان کی جغرافیای حدیں ٹوٹ گئی نشنل لیبریشن مومنٹ کو ایک دوسرے طاقت ور قوم یا ملک کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا خاصا مشکل ترین کام ہے جبکہ رجیم میں تبدیلی لا کر کسی اور سیاسی سسٹم کو ملک میں لاگو کرنے کی جدوجہد ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقہ فکر کے درمیان ہوتا ہے جو مشکل اور خونریز ضرور ہوتا ہے لیکن ایک ریاست اور قوم کی تشکیل کی عمل سے زیادہ نہیں کسی ملک میں کسی رجیم یا سیاسی سسٹم کو تبدیلی کی تحریک اس وقت اٹھتا ہے جب گوڈ گوورنس نہ ہو یا آمرانہ نظام ہو اور عوام کو اظہار آزادی نہ حاصل ہو اس کے خلا ف جب عوام اٹھتی ہے تو ملک کے سربراہ اور اپنی فورسز کے ذریعے انکو دبانے کی کوشش کریگا لیکن ان مواقع میں فورسز کے بہت آفیسرز عوام کی حمایت میں ملک کی حکمران کی حکم عدولی کرسکتے ہیں ایران میں شاہ کے خلاف تحریک اور عرب سپرنگ مصر میں بھی اسکی مثالیں ملتی ہیں۔ جبکہ آزدی کی تحریکوں میں قابض بے رحمانہ ظلم کا سہارا لیتا ہے اور محکوم کو اپنی سرزمین پر اپنے فوج اور پولیس سے سنگدلی اور سفاکی سے مارتا ہے جس طرح پاکستانی فوج بلوچ قوم کے خلاف کررہا ہے لیکن عمران خان اور طاہر القادری نے اسلام اباد پر چڑاھائی کی انقلاب لانے کے لئے ان کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا کیونکہ وہ ملک کے اپنے اندر انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے جبکہ بلوچ ملک سے زور پر لیا گیا اپنا وطن مانگ رے ہیں اس پر قابض کا رویہ بھی کچھ حد تک الگ ہے