شال(ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی اس بات کی تصدی کرتی ہے کہ تنظیم کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو دوسری مرتبہ نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ نامزدگی جنوری 2026 میں عمل میں آئی تھی، تاہم تنظیمی پالیسی کے تحت اسے اس وقت منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔
آج اس حقیقت کو سامنے لانا اس لیے ضروری ہے کہ جس شخصیت کو پاکستانی ریاست نے دہشت گردی کے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سزا دینے کی کوشش کی ہے، اسی شخصیت کو عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی دوسری مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ تنظیم کی جدوجہد مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف اختیار کیے گئے اقدامات سیاسی انتقام اور جبر کی عکاسی کرتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اس وقت من گھڑت ایف آئی آرز، بے بنیاد الزامات اور فیس لیس ٹرائل جیسے غیر شفاف عدالتی عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی آپریشنوں کے خلاف اٹھنے والی پرامن آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور تنظیم کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات بلوچ عوام روزانہ اپنی زندگیوں میں محسوس کر رہے ہیں۔
ہم عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری اس سنگین صورتحال کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام رہنماؤں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔


