Homeخبریںخاش، ایرانشہر شاہراہ پر فائرنگ: دو بلوچ شہری جاں بحق، ایک زخمی...

خاش، ایرانشہر شاہراہ پر فائرنگ: دو بلوچ شہری جاں بحق، ایک زخمی اور گرفتار، اہلِ خانہ نے پولیس کا مؤقف مسترد کر دیا

خاش(ھمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، اتوار 29 جون 2026 کو، ایران میں جنگ کے دوران انٹرنیٹ کی وسیع بندش کے باعث تاخیر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، 29 اپریل 2026 کو خاش سے ایرانشہر جانے والی شاہراہ پر دامن کے علاقے گچ برین کے قریب انسدادِ منشیات فورس کی فائرنگ میں تین بلوچ شہری نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔

جاں بحق ہونے والوں کی شناخت معین کُرد (21)، ولد حمید رضا، غیر شادی شدہ، سکنہ سنگان، ضلع خاش، اور فرشید شہنوازی (میرگل زہی) (28)، شادی شدہ اور ایک بچے کے والد، سکنہ خاش، کے طور پر ہوئی ہے۔

زخمی ہونے والے شہری کی شناخت خالد کُرد (30)، ولد دادرحمان، شادی شدہ، سکنہ خاش، کے نام سے کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، بعد ازاں بھاری ضمانت پر علاج کی غرض سے رہا کر دیا گیا، تاہم وہ اب بھی سکیورٹی سے متعلق مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، تینوں افراد ایک پژو 405 گاڑی میں خاش سے ایرانشہر جا رہے تھے کہ انہیں بغیر کسی مسلح جھڑپ کے انسدادِ منشیات فورس نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گاڑی میں نہ کوئی اسلحہ تھا، نہ منشیات اور نہ ہی کوئی غیر قانونی سامان موجود تھا۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کے بعد جب حکام کو معلوم ہوا کہ گاڑی میں سوار افراد بے گناہ ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ بنانے اور جائے وقوعہ کا منظر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ سرکاری بیان میں کیے گئے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب، ایرانی مقبوضہ بلوچستان پولیس نے اپنے سرکاری بیان میں کہا تھا کہ گچ برین کے علاقے میں اہلکاروں کا “مسلح شرپسندوں” سے مقابلہ ہوا، جس کے دوران دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ ان کی گاڑی سے ایک کلاشنکوف رائفل اور کچھ گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

تاہم مقتولین کے اہلِ خانہ نے اس سرکاری مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی میں صرف تین افراد سوار تھے، چار نہیں، اور نہ ہی کسی قسم کی مسلح جھڑپ ہوئی یا گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا۔ انہوں نے واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات، تمام حقائق منظرِ عام پر لانے اور ذمہ دار حکام سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے

یہ بھی پڑھیں

فیچرز