Homeخبریںزاہدان جیل میں بلوچی زبان و ثقافت کے دو کارکنوں کی حراست...

زاہدان جیل میں بلوچی زبان و ثقافت کے دو کارکنوں کی حراست برقرار، خاندانوں کو سخت سزاؤں کا خدشہ

زاہدان(ہمگام نیوز ) بلوچ ثقافت اور زبان کے شعبے سے وابستہ دو کارکنوں کی گرفتاری کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ بدستور زاہدان کی مرکزی جیل میں زیرِ حراست ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ کو ان کے خلاف سخت سزائیں سنائے جانے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق 4 اگست 2026 تک، دونوں بلوچ شہریوں کو 16 جولائی 2025 کو مہگس کاؤنٹی میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ انہیں ابتدا میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور بعد ازاں زاہدان کی مرکزی جیل منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کے 384 روز گزرنے کے باوجود وہ تاحال زیرِ حراست ہیں۔

ذرائع نے ان دونوں شہریوں کی شناخت 28 سالہ سعید رئیسی (رند) ولد حیدر، جو مہگس کے شہر آشار سے تعلق رکھتے ہیں، اور 30 سالہ محسن رئیسی (رند) ولد عثمان کے نام سے کی ہے۔ محسن شادی شدہ اور دو بچوں کے والد ہیں اور مہگس (مہرستان) کے علاقے ایرافشان کے گاؤں کولگ سے تعلق رکھتے ہیں۔

خاندان کے قریب ذرائع کے مطابق، متعلقہ حکام سے کی گئی پیروی کے دوران بعض عدالتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دونوں افراد کو “سکیورٹی سے متعلق الزامات” کا سامنا ہے اور ان کے خلاف سخت سزائیں سنائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی عدالت کی سماعت گزشتہ چند ماہ کے دوران ہوچکی ہے۔ بعض حکام کے بیانات کے باعث دونوں بلوچ ثقافتی کارکنوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے مستقبل اور ممکنہ عدالتی فیصلے کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ صبح تقریباً 7 بجے متعدد گاڑیوں میں سوار فوجی اور سکیورٹی اہلکار محسن کے گھر پہنچے۔ اہلکاروں نے مبینہ طور پر عدالتی حکم دکھائے بغیر گھر میں داخل ہوکر انہیں گرفتار کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

ذرائع کے مطابق محسن کی گرفتاری کے بعد تقریباً دوپہر 2 بجے سکیورٹی اہلکاروں نے آشار میں سعید کی دکان اور جائے کار پر بھی چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ محسن اور سعید بلوچی زبان و ثقافت کے شعبے میں سرگرم کارکن ہیں اور ایک طویل عرصے سے بلوچی مادری زبان کی تعلیم اور بلوچ ثقافت کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

اب تک ان دونوں بلوچی زبان کے کارکنوں کے خلاف عائد کیے گئے مخصوص اور باضابطہ الزامات کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 15 میں فارسی زبان کے ساتھ مادری زبانوں کی تعلیم کی اجازت پر زور دیا گیا ہے، تاہم بلوچ، کرد، ترک، عرب اور ترکمان جیسی قومیں اس حق سے محروم ہیں۔ ان قوموں کی جانب سے اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کی کوششوں کو مبینہ طور پر دھمکیوں، دباؤ اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز