زاہدان (ہمگام نیوز ) گزشتہ روز ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں علی خامنہ ای کے نمائندے مصطفیٰ محامی نے جمعہ کے خطبے کے دوران (جو صوبائی ٹی وی نیٹ ورک ‘ہامون’ سے نشر ہوا) خطیبِ جمعہ زاہدان بلوچ عالم دین مولانا عبدالحمید اسماعیل زہی کا براہِ راست نام لیے بغیر ان پر وہابی نظریات کے فروغ، مسلمانوں کی تکفیر اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے شدید الزامات عائد کیے۔
یہ سخت بیانات بلوچستان میں اغوا برائے تاوان اور بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر مولانا عبدالحمید کے حالیہ موقف کے ردِعمل میں سامنے آئے ہیں۔
مصطفیٰ محامی نے اپنے خطبے میں کہا کہ جو شخص “وہابی نظریات کا مبلغ” ہو اور اس کا پلیٹ فارم مسلسل انحرافی افکار کو فروغ دے رہا ہو، وہ توحید اور شرک کے نادرست مفہوم کی بنیاد پر اپنے سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کو “کافر اور مشرک” قرار دیتا ہے۔
انہوں نے مزید مدعی ہوتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات اور جہاد سے متعلق گفتگو سے عوام میں تشدد کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اگر یہ باتیں لا علمی میں کی جا رہی ہیں تو ثقافتی اداروں کو اصلاح کرنی چاہیے، اور اگر کسی کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے تو سیکیورٹی اداروں کو کارروائی کرنی چاہیے۔
محامی نے مولانا عبدالحمید کی جانب سے بلوچستان میں “امتیاز اور ناانصافی” کے ذکر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع کی تکرار سے جوان نسل میں نفرت کی آگ بھڑکتی ہے جو بدامنی کا باعث بنتی ہے۔
یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مولانا عبدالحمید نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں اغوا برائے تاوان اور بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو نشانا بنایا تھا۔
مولانا عبدالحمید نے جمعہ، 31 جولائی 2026ء کو زاہدان میں خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پانی سر سے گزر چکا ہے” اور عوام کو شک ہے کہ ان واقعات کے پسِ پردہ کوئی گٹھ جوڑ موجود ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اغوا کاروں کے خلاف بھی وہی سختی دکھائی جائے جو کسی اہلکار کے قتل کے کیس میں دکھائی جاتی ہے۔
اس کے بعد، جمعرات 6 اگست 2026ء کو زاہدان کی مسجد مکی میں علماء اور معززین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یرغمال بنانے کو “عوام کے ساتھ خیانت” قرار دیا اور قبائل سے اپیل کی کہ وہ اغوا کاروں کی سرپرستی نہ کریں۔
انہوں نے جمعہ 7 اگست کو بھی حکومت سے ان مجرموں کے خلاف عملی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بدامنی کے خلاف مولانا عبدالحمید کے جرات مندانہ موقف کے بعد علی خامنہ ای کے نمائندے کی جانب سے تکفیر اور وہابیت کا لیبل لگانا دراصل سیکیورٹی اداروں کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور مولانا کے موقف کو دبانے کی ایک کوشش کے طور پر
دیکھا جا رہا ہے۔


