زاہدان (ہمگام نیوز ) ہفتہ، 8 اگست 2026ء کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان خصوصاً زاہدان اور خاش کے اضلاع میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور مسلح ڈکیتیوں کی وارداتوں میں بظاہر نمایاں اضافے کے ساتھ ہی ذمہ دار اداروں کی پراسرار خاموشی اور مؤثر کارروائی کی عدم موجودگی نے عوام اور سماجی کارکنوں میں شدید تشویش اور سوالات کو جنم دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران اغوا برائے تاوان کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان حوادث کا نشانہ صرف تاجر یا امیر افراد ہی نہیں بلکہ بچے، نوجوان، بزرگ اور عام شہری بھی بن رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں اور موبائل فونز کی چھین چھپٹ، دیگر ڈکیتیوں اور بعض یرغمالیوں کے قتل کے واقعات نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
علاقے میں سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور انتظامی اداروں کی وسیع موجودگی کے باوجود عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اغوا کار گروہ کس طرح دن دہاڑے اور عوامی مقامات سے بغیر کسی خوف و خطر کے شہریوں کو اغوا کر رہے ہیں۔
مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی اور دیگر بلوچ شخصیات نے بھی حالیہ دنوں میں بدامنی اور یرغمال بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور ان کیسز کے پس پردہ حقائق کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد کیسز میں یرغمالیوں کی رہائی انتظامیہ کے آپریشنز سے نہیں بلکہ مقامی علماء اور معززین کی ثالثی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری اداروں کی ناکامی کے بعد سماجی شخصیات ہی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ ملزمان کی گرفتاری کے بعد پراسرار رہائی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس نے عوام میں بے اعتمادی اور شک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سماجی تجزاریہ نگاروں کے مطابق مسلسل بدامنی سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی ہے یا اس کے پیچھے کچھ دیگر مقاصد بھی کارفرما ہیں۔ عوام اب سیکیورٹی اداروں سے فوری اور شفاف جوابدہی کا مطالبہ
کر رہے ہیں۔


