خضدار (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں جبری گمشدگی کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں عبد القدوس زرکزئی اور ان کی 17 سالہ بیٹی اقصیٰ کو قابض پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 5 اگست کی رات تقریباً 10 بجے خضدار کی سول کالونی میں واقع ایک رہائشی کوارٹر پر سی ٹی ڈی اور سول ڈریس میں ملبوس اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دھاوا بولا، اہلکاروں نے گھر میں داخل ہونے کے بعد خواتین اور دیگر افراد کو ہراساں کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر کی تلاشی لی۔
کارروائی کے دوران عبد القدوس زرک زئی اور ان کی 17 سالہ بیٹی اقصیٰ کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ اہلکاروں نے نہ تو گرفتاری کی کوئی وجہ بتائی اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی یا مقدمے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو لے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں کس مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور عبد القدوس زرک زئی اور ان کی بیٹی اقصیٰ کی محفوظ بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔


