برلن (ہمگام نیوز) 11 اگست، یومِ تجدیدِ عہدِ بلوچ کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ اوڈر میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جبکہ ڈسلڈورف، ہنوفر اور بریمن میں بلوچستان کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی گئی۔
بی این ایم کے مطابق آگاہی مہم کے دوران عوام کو بلوچستان کی تاریخی حیثیت، برطانوی نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد رونما ہونے والے اہم واقعات، بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے متعلق بلوچ مؤقف اور خطے کی موجودہ سیاسی صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے بلوچ قوم کی جانب سے بلوچستان کی آزادی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ خطے کی اسٹریٹجک اور جغرافیائی سیاسی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔
فرینکفرٹ اوڈر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 11 اگست بلوچ قوم کے لیے اپنے سیاسی عزم کی تجدید، آزادی کی جدوجہد میں دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنے، قومی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنانے اور سیاسی و قومی شعور کو فروغ دینے کا ایک اہم دن ہے۔
سیمینار سے بی این ایم مرکزی کمیٹی کے رکن ھمل بلوچ ، بی این ایم جرمنی چیپٹر کے صدر اصغر علی اور مصطفیٰ شاھوانی نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان کی تاریخ، آزادی کے لیے جاری سیاسی جدوجہد اور بیرونِ ملک مقیم بلوچوں کی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے تاریخی شعور کو زندہ رکھنے، بلوچ قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور قومی جدوجہد کی حمایت میں بلوچ ڈائسپورا کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
سیمینار کے دوران ’’11 اگست: بلوچستان کی آزادی، الحاق اور مزاحمت کی اَن کہی داستان‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ فلم میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران اور اس کے بعد بلوچستان کی تاریخ، آزادی کے اعلان سے متعلق اہم واقعات، بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور اس کے بعد ابھرنے والی مزاحمت و سیاسی جدوجہد کا جائزہ پیش کیا گیا۔
سیمینار کے اختتام پر بلوچ نیشنل موومنٹ کے نظریاتی رہبر شہید غلام محمد بلوچ کی شاعری پر مبنی ایک بلوچی ٹیبلو پیش کیا گیا۔ اس فنکارانہ پیشکش کے ذریعے شہید غلام محمد بلوچ کی سیاسی میراث کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ مزاحمت، قربانی، قومی شعور اور بلوچ قومی مقصد سے وابستگی کے موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔
بی این ایم کے مطابق، جرمنی میں منعقدہ سیمینار اور آگاہی مہم کا مقصد بلوچستان کی تاریخ، سیاسی صورتِ حال اور بلوچ قومی جدوجہد کے بارے میں یورپی عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور عالمی سطح پر بلوچستان کے مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانا تھا۔


