Homeخبریںکوئٹہ: 20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ جبری لاپتہ

کوئٹہ: 20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ جبری لاپتہ

شال (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں واشک کے علاقے بسیمہ سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صفیہ بلوچ دختر عبدالخالق، رہائشی بسیمہ، واشک، کو 23 اگست 2026 کی رات تقریباً ایک بجے کوئٹہ سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔

اہلخانہ کے مطابق ان کی جبری گمشدگی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے ملوث ہیں ۔

واضح رہے کہ رواں سال بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا ر

ہا ہے۔

Previous article
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی قابلِ اعتماد معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حکمرانوں کے لیے انتہائی سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ کسی معاہدے کے امکان پر شکوک رکھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایران کے معاملے پر سفارت کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی تھی۔ تاہم نیتن یاہو کے مطابق انہیں یقین نہیں کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ کسی نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ معاہدہ ممکن نہیں اور اسی وجہ سے سفارتی راستے کے حوالے سے ان کی امیدیں بہت محدود ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کو بھی سراہا۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید مالی اور اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم معاملات پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ سفارت کاری، اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ کے درمیان توازن آنے والے دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پالیسی کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔
Next article
یہ بھی پڑھیں

فیچرز