Homeخبریںسراوان کے بخشان میں جھڑپ: ہلاک ہونے والے دو قابض ایرانی سکیورٹی...

سراوان کے بخشان میں جھڑپ: ہلاک ہونے والے دو قابض ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی شناخت ہوگئی

سراوان(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق ہفتہ 12 ستمبر 2026 کو سراوان کے علاقے بخشان میں قابض ایرانی فوج اور دیگر فورسز اور مسلح افراد کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں ہلاک ہونے والے دو سکیورٹی اہلکاروں کی شناخت ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں سکیورٹی اہلکاروں کی شناخت میثاق ثانی اور مهدی سرحدی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل اس جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکاروں اور چار مسلح افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ تاہم اس رپورٹ کی تیاری تک ایک مزید ہلاک ہونے والے فوجی اہلکار اور جھڑپ کے دوران جان سے جانے والے چار بلوچ شہریوں کی شناخت سامنے نہیں آسکی تھی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی افواج کے قرارگاہ قدس کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان، جسے سرکاری ذرائع ابلاغ نے شائع کیا، کے مطابق ایک مسلح ٹیم، جس کے بارے میں سپاہ کا دعویٰ ہے کہ وہ سراوان میں کارروائی کی تیاری کر رہی تھی، کو ہفتہ کی علی الصبح فوجی فورسز نے نشانہ بنایا۔ سپاہ کے مطابق اس کارروائی میں ٹیم کے چار ارکان ہلاک ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے دوران سپاہ کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے، جبکہ جائے وقوعہ سے متعدد ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔

دوسری جانب جبهه مبارزین مردمی (عوامی جنگجو محاذ) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سراوان شہر میں اس سے وابستہ ایک یونٹ کے ٹھکانے کو ایرانی حکومتی فورسز نے نشانہ بنایا۔ تنظیم کے مطابق محصور افراد کی مدد کے لیے اس نے اپنی معاون ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیں۔

مبارزین نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی معاون ٹیمیں محاصرے کی ابتدائی لائن توڑنے اور شہر کے مختلف مقامات پر جھڑپیں شروع کرنے میں کامیاب ہوئیں، جس کے نتیجے میں محاصرے میں موجود متعدد افراد کو ابتدائی مقام سے باہر نکال لیا گیا۔

ذرائع کے مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ ہفتہ کی صبح تقریباً 4 بجے شروع ہوئی اور آٹھ گھنٹے سے زائد تک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد رک گئی۔

جھڑپ ختم ہونے سے قبل فوجی اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور جھڑپ کے مقام کی جانب جانے والے راستے بند کردیئے تھے۔ ذرائع کے مطابق متعدد امدادی فورسز اور ایمبولینسیں بھی علاقے میں بھیجی گئیں، جبکہ بعض ایمبولینسیں جھڑپ کے مقام کے قریب موجود رہیں۔

جھڑپ رکنے کے باوجود سراوان میں سکیورٹی کی صورتحال معمول پر نہیں آئی اور فوجی و سکیورٹی فورسز کی شہر کی سڑکوں اور جھڑپ کے اطراف کے علاقوں میں موجودگی برقرار ہے۔ جھڑپ کے علاقے اور بعض اطرافی مقامات کی جانب جانے والے راستے اب بھی فوجی فورسز کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں شہریوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بسیج فورسز اور سادہ لباس اہلکار بھی شہر کے بعض مقامات پر گشت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جھڑپ کے علاقے کی نگرانی اور شناسائی کے لیے کواڈ کاپٹرز کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

 ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں متعدد سادہ لباس اہلکار موجود تھے، جن میں بعض نے بلوچی لباس جبکہ بعض نے غیر بلوچی لباس پہن رکھا تھا۔ جھڑپ کے مقام کے اطراف نجی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق فوجی اہلکاروں نے شہریوں کو خبردار کیا اور انہیں جھڑپ کے مناظر کی ویڈیو بنانے سے منع کیا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز