یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچستان میں کاؤنٹر انسر جنسی کی پالیسیوں میں تیزی آچکی ہے ۔بی...

بلوچستان میں کاؤنٹر انسر جنسی کی پالیسیوں میں تیزی آچکی ہے ۔بی ایس ایف

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپیندنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی خاموشی کو باعث تعجب قرار دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں کاؤنٹر انسر جنسی کی پالیسیوں میں تیزی آچکی ہے بلوچ فرزندوں کو لاپتہ اور شہید کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے روزانہ بلوچ فرزندوں کو حراست میں لیا جارہاہے بلوچ آبادیوں میں کریک ڈاؤن اور بلوچ عوام کو ہراسان کا سلسلہ معمول بن چکاہے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں سبی کے علاقہ میں پہلے سے لاپتہ بلوچ فرزندوں کی لاشین پھینکنے کے بعدان کی شہادت کے واقعہ کو جعلی مقابلہ کا نام دیکر زمینی حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کی گئی حالانکہ وہ کسی مقابلے مین شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ تمام تر حقائق و شوائد اور ان کے لواحقین کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ لاپتہ افراد تھے جنہیں ایک ماہ قبل حراست مین لیا گیا تھا جن میں قیصر خان سمالانی رمضان پہلوانزئی احمد خان مری زمان خان سمالانی محمدخان مری جو پیشہ کے لحاظ سے مالداری اور زمینداری کے شعبہ سے منسلک ہے ترجمان نے کہاکہ کوئی بھی بین الاقوامی انسانی قوانیں کسی بھی شخص کی اس طرح قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتے دنیا میں کئی بھی ماورائے عدالت گرفتاری یا قتل کا کوئی بھی جواز نہیں ریاست تمام تر قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلوچ فرزندوں کو حراست میں لے کرانہیں ناقابل بیان تشدد اور ازیت سے گزار کر شہید کرتا ہے ترجمان نے کہاکہ انسانی حقوق کے پاسبانوں کو بلوچستان میں ہونے والے ظلم و جبر نظر نہیں آتے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ آج یا چند سالوں کا نہیں بلکہ پچھلے چھہ عشروں سے ریاست بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کا مقصد یہی ہے کہ بلوچ اپنی آزادی اور اقتدار اعلی کے بحالی کی کوششوں سے دور رہ کر ریاست کی غلامی اور تسلط کو تسلیم کریں لیکن بلوچ قوم اپنی قربانیوں سے دنیا مین اپنی جدوجہد کو متعارف کرنے میں کامیاب ہوچکاہے ابھی یہ عالمی ضمیر پر منحصر ہے کہ وہ بلوچوں کی حمایت مین کس حد تک ابھر کر سامنے آئے گا حالات اس کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری کھل کر بلوچ قوم کی سیاسی و سفارتی اور اخلاقی حمایت کرین لبرم ازم روشن خیالی اور انسانی حقوق کے چیپیئن میدان میں آئیں جو امن انصاف اور جمہوریت کے دعوے اور پاسداری میں اول کے صفوں میں نظر آتے ہین لیکن انہیں ثابت کرنے چاہیے کہ ان کے وضع کردہ نعرہ اور منشور ڈھکوسلہ نہیں کاغزی کاروائی اور فوٹو سیشن پر مبنی نہیں بلکہ ان میں حقیقت بھی ہے عالمی دنیا اور بلخصوص امریکہ اور یورپی یونین کو اپنی معاشی نفع و نقصان سے بالاترانسانیت کے لئے سوچنا چاہیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے صرف قرار دادیں پاس نہ کریں بلکہ عملی طور پر اپنی زمہ داری اور فرائض ادا کریں عالمی برادری بلوچ قومی مسئلہ کے حوالہ سے ریاست پر سفارتی دباؤ بڑھاکر پیش رفت کا آغاز کریں

یہ بھی پڑھیں

فیچرز